وانکھیڈے مسلمان ہے‘جعلی صداقتنامے تیار کرنے میں ماہر:نواب ملک

این سی پی وزیر نے اس بات کو دہرایاکہ آئی آرایس 2008ء بیاچ کے عہدیدار وانکھیڈے جو فی الحال این سی بی ممبئی میں برسرِ خدمت ہیں‘ یقیناً اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے جو انہیں ایسے جعلی دستاویزات پیش کرنے کی بنیاد پر ملی ہے۔

ممبئی: مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک نے آج کہا کہ این سی بی کے زونل ڈائرکٹر سمیر وانکھیڈے کے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹس(ایس ایل سی) سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ ایک ”مسلمان“ ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان نے یہ بتانے کی کوشش میں کہ این سی بی کے عہدیدار نے محفوظ زمرہ میں مرکزی حکومت کی اہم ملازمت حاصل کرنے ذات کا جعلی سرٹیفکیٹ کس طرح پیش کیاتھا‘ وانکھیڈے کے مبینہ اسکول لیونگ سرٹیفکیٹس منظر عام پر لائے ۔

 وانکھیڈے نے رہائش گاہ کی تبدیلی  کے سبب ایک اسکول چھوڑکر دوسرے اسکول میں داخلہ لیاتھا۔ پہلا سرٹفیکیٹ دادر کے سینٹ پالس ہائی اسکول کا ہے جو انہوں نے اپنے داخلے(13 جون 1985 ء) کے ایک سال بعد دوسری جماعت کے طالب علم کی حیثیت سے 27جون 1986ء کو چھوڑا تھا۔ بعدازاں نئے مکان میں منتقل ہونے کی وجہ سے انہوں نے وڈالا کے سینٹ جوزف اسکول میں داخلہ لیاتھا۔ یہ دونوں اسکول ساؤتھ سنٹرل ممبئی میں واقع ہیں۔ دونوں سرٹیفکیٹس ہاتھ سے تحریر کردہ ہیں۔ اس زمانے میں ایسے ہی سرٹیفکیٹس جاری کئے جاتے تھے۔ ان دونوں میں مماثل تفصیلات درج ہیں جن میں طالب علم کا نام سمیر داؤد وانکھیڈے‘ تاریخ پیدائش 14-12-1979 اور مذہب مسلم درج ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ میں یہ سرٹیفکیٹس اور دیگر تفصیلات پہلے ہی معزز ممبئی ہائیکورٹ میں داخل کرچکا ہوں جو آج اپنے عبوری احکام جاری کرنے والی ہے۔ وانکھیڈے دھوکہ دہی میں ملوث رہے ہیں اور جعلی سرٹیفکیٹس تیارکرنے کے ماہر ہیں۔ وانکھیڈے کے خاندان نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سے کمپیوٹر کے ذریعہ تیارکردہ سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہوئے نواب ملک کے دعوؤں کو غلط قراردینے کی کوشش کی۔ اس سرٹفکیٹ میں وانکھیڈے کا نام سمیر‘ ماں کا نام زاہد بانو‘ اور باپ کا نام دیانندیوکچروجی وانکھیڈے درج ہے۔

نواب ملک نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ بی ایم سی نے تمام دستی تحریر کردہ دستاویزات کی اسکیاننگ کی ہے اور اسکول لیونگ سرٹیفکیٹس ان ہی الیکٹرانک ریکارڈس سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمیر داؤد وانکھیڈے ایسے جعلی سرٹیفکیٹس پیش کرتا رہا ہے۔ میں نے تمام دستاویزات ہائی کورٹ‘ ممبئی اورمہاراشٹرا پولیس کے سربراہان اور اپوزیشن بھارتیہ جنتاپارٹی کو پیش کردئیے ہیں اور تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

 این سی پی وزیر نے اس بات کو دہرایاکہ آئی آرایس 2008ء بیاچ کے عہدیدار وانکھیڈے جو فی الحال این سی بی ممبئی میں برسرِ خدمت ہیں‘ یقیناً اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے جو انہیں ایسے جعلی دستاویزات پیش کرنے کی بنیاد پر ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچائی کو سامنے لانے مزیدانکشافات کئے جائیں گے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.