ٹیکہ نہ لینے والوں کے لوکل ٹرینوں میں سفر پر پابندی کے فیصلہ کو غیرمنطقی ثابت کریں: بمبئی ہائیکورٹ

ہائی کورٹ سے گزشتہ سال اگست میں جاری کردہ مہاراشٹرا حکومت کے ایس او پیز کو منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی جس میں ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سفر کے لیے مسافرین پر ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کا لزوم عائد کیا گیا۔

ممبئی: بمبئی ہائی کورٹ نے کہا کہ ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ویکسین نہ لینے والے افراد کے سفر پر پابندی کے مہاراشٹرا حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ یہ پالیسی بالکل من مانی اور نامعقول ہے۔

چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ایم ایس کارنک نے کہا کہ ہائی کورٹ کو یہ یقین دلانے کی صورت میں ہی کہ اس طرح کی پالیسی بالکل نامعقول ہے اور عدالت کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے، وہ لوکل ٹرینوں پر ریاستی حکومت کی عائد کردہ تحدیدات میں مداخلت کرے گی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ٹیکہ اندازی‘ کووڈ19کے خلاف لڑنے ایک طرح کا ہتھیار ہے اور جنہوں نے ٹیکے نہیں لیے انہیں اس ڈھال تک رسائی حاصل نہیں۔

بنچ فیروز میٹھی بوروالا اور یوہان ٹینگرا نامی شہریوں کی مفاد عامہ کی درخواستوں پر سماعت کررہی تھی جس میں ہائی کورٹ سے گزشتہ سال اگست میں جاری کردہ مہاراشٹرا حکومت کے ایس او پیز کو منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی جس میں ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سفر کے لیے مسافرین پر ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کا لزوم عائد کیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل نلیش اوجھا نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ ا س طرح کا امتناع ان شہریوں کے ساتھ امتیاز اور ان کے حق مساوات کی خلاف ورزی ہے، جنہوں نے ٹیکے نہیں لیے۔

تاہم ریاستی حکومت نے اس ماہ کے اوائل میں داخل کردہ اپنے حلف نامے میں کہا کہ تحدیدات معقول ہیں اور شہریوں کے جینے اور آزادی کے بنیادی حق کو متاثر نہیں کرتیں۔

اس نے کہا کہ ریاست اس طرح کی تحدیدات عائد کرکے پوری ریاست کے سرپرست ہونے کا کردار ادا کررہی ہے۔ پیر کو ہائی کورٹ کی بنچ نے ریاست کے حلف نامے کا حوالہ دیتے ہوئے اوجھا سے پوچھا کہ عدالت ریاستی پالیسی میں مداخلت کیوں کرے؟ اس نے کہا کہ ٹیکہ اندازی کووڈ 19سے لڑنے ایک طرح کا ہتھیار ہے۔

یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ٹیکہ یافتہ افراد کبھی کووڈ19سے متاثر نہیں ہوں گے۔ انتہائی تحفظ یافتہ افراد بھی کووڈ کی زد میں آچکے ہیں۔ تاہم ٹیکہ یافتہ افراد کے لیے یہ ڈھال کی طرح کام کرے گی۔۔ جنہوں نے ٹیکے نہیں لیے انہیں اس ڈھال تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔“

ہائی کورٹ نے مہاراشٹرا حکومت کے حلفنامے کا مزید حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکہ اندازی کے بعد کووڈ سے متاثر ہونے یا دواخانہ میں شریک ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ ریاست نے کہا کہ مہاراشٹرا میں 7.9کروڑ افراد کو پہلی خوراک دی جاچکی ہے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ 75فیصد سے زائد افراد پہلی خوراک لے چکے ہیں اور ان کا احساس ہے کہ ٹیکہ اندازی 100فیصد تحفظ نہ بھی دے تو یہ کام کرے گی۔ درحقیقت آج آپ کو کوئی بھی دوا 100فیصد تحفظ فراہم نہیں کرسکتی۔

اگر آپ ذیابیطس کے مریض اور دوا لے رہے ہیں تو پھر آپ صرف خود کو کچھ سنگین ہونے سے بچارہے ہیں۔ ٹیکہ اندازی بھی ایسا ہی قدم ہے۔“

ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ کوئی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ کووڈ سے متعلق تحدیدات پر ریاست کے ایس او پیز یا اس کی پالیسی دانشمندانہ یا زیادہ موثر ہوسکتی ہیں مگر عدالت کی مداخلت کے لیے یہ بنیاد کافی نہیں ہے۔

آپ کو (درخواست گزاروں کو) بتانا چاہیے کہ یہ پالیسی غیرمعقول اور اتنی من مانی ہے کہ کوئی بھی معقول شخص اسے قبول نہیں کرے گا۔ آپ کی دلیل عدالت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی ہونی چاہیے۔“ اس معاملے کی سماعت 17/ جنوری کو ہوگی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.