بنگلورو کی 16 مساجد میں لاؤڈ اسپیکرس کے خلاف درخواست

تھانی ساندرا مین روڈ میں واقع مقامی اپارٹمنٹ کے 32مکینوں نے لاؤڈ اسپیکروں اور مائیک کے ذریعہ صوتی آلودگی پیدا کرنے پر 16مساجد کے خلاف مفاد عامہ کی درخواست داخل کی تھی۔

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو بنگلورو کے رہائشیوں کی جانب سے مساجد سے ہونے والی صوتی آلودگی کے خلاف درخواست کے سلسلہ میں اندرون 4 ہفتے اعتراضات داخل کرنے کی ہدایت دی۔

یہ معاملہ منگل کو کارگزار چیف جسٹس ایس سی شرما کے روبرو پیش ہوا۔ تھانی ساندرا مین روڈ میں واقع مقامی اپارٹمنٹ کے 32مکینوں نے لاؤڈ اسپیکروں اور مائیک کے ذریعہ صوتی آلودگی پیدا کرنے پر 16مساجد کے خلاف مفاد عامہ کی درخواست داخل کی تھی۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ قبل ازیں عدالت نے تھانی ساندرا کی 16مساجد کو حلف نامہ داخل کرنے کو کہا تھا کہ وہ صوتی آلودگی قانون کے مطابق حکام سے تحریری اجازت لیے بغیر لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال نہیں کریں گے۔

مساجد کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ تمام 16مساجد میں آواز کی نگرانی کا نظام موجود ہے اور ان سے اتنی صوتی آلودگی پیدا نہیں ہورہی ہے۔ صوتی آلودگی کی صورت میں یہ معاملہ علاقہ کی پولیس کے علم میں آئے گا اور وہ کارروائی کریں گے۔

جواب میں کہا گیا کہ تمام مساجد نے لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کے لیے تحریری اجازت نامہ حاصل کیاہے۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے حکومت کو درخواست پر اعتراضات داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس درخواست کی قانونی حیثیت پر اگلی سماعت میں این جی ٹی کے رہنما خطوط کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.