مسلسل بارش، بنگلورو کے کئی مقامات زیر آب

آج صبح66ایکڑ پر محیط سنگاپورہ جھیل میں طغیانی آنے کے بعد کئی اپارٹمنٹس زیرآب آگئے۔ حکومت نے ہنگامی اقدامات کے لیے راحت ٹیموں بشمول پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔

بنگلورو: کرناٹک میں شدید بارش کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا جس سے تمام بڑے ڈیم تقریباً لبریز ہوگئے اور شہر کے 54محلے زیر آب آگئے۔ مسلسل بارش سے عام زندگی مفلوج ہوگئی۔

آج صبح66ایکڑ پر محیط سنگاپورہ جھیل میں طغیانی آنے کے بعد کئی اپارٹمنٹس زیرآب آگئے۔ حکومت نے ہنگامی اقدامات کے لیے راحت ٹیموں بشمول پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔

بنگلورو کا یلاہنکا بدترین طور پر متاثر ہوا جہاں 45مقامات زیرآب آگئے۔ مہادیو پورہ، ودیانارائن پورم، الالا سندرا اور راجہ راجیشوری نگر محلہ جات میں کئی مکانات پانی میں ڈوب گئے۔

یلاہنکا چکبلاپور روڈ، بنگلورو دوڈابلاپور سڑکیں بھی زیرآب آگئیں جس ے گاڑی رانوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نومبر کے آغاز سے شدید بارش کے نتیجہ میں ریاست کے تمام بڑے ڈیمس تقریباً لبریز ہوچکے ہیں۔

کرشنا ساگر (کے آر ایس)، کابینی، باندرا اور تنگابھدرا ہفتہ کو ہی لبریز ہوچکے تھے۔ تین ہائیڈل انرجی ذخائر آب اور دیگر چھ ڈیم بھی تقریباً پُر ہوچکے ہیں۔ کاویری طاس میں 95 فیصد پانی کا ذخیرہ ہے اور کرشنا طاس میں 92 فیصد ذخیرہ آب ہے۔ نشیبی علاقوں میں مقیم افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں، کیوں کہ ڈیموں سے کثیر مقدار میں پانی کا بیرونی بہاؤ ہے۔

عہدیداروں نے کہا کہ تنگابھدرا ڈیم سے 80 ہزار کیوسیکس پانی چھوڑا جارہا ہے۔ کرناٹک کے مختلف شہروں میں جھیلیں جو کئی دہائیوں سے پُر نہیں ہوئی تھیں اب تقریباً لبریز ہوگئیں اور بیشتر میں طغیانی آگئی۔ حکام نے حفاظتی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.