مسلمان ہندوستان میں اقلیت میں نہیں : رحمن

انہوں نے کہا ہمیں معاشرہ کو دینا ہوگا ہمیں چاہئے کہ ہم دینے والے بنیں، سماج کو دیں، اچھے شہری بنیں۔ بجائے اس کے کہ حکومت سے مطالبہ کریں،ہمیں سماج کو دینا چاہئے۔

بنگلورو: کانگریس کے سینئر لیدڑ رحمن خان نے کہا کہ مسلمان ملک میں اقلیت نہیں ہیں اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم کی تعمیر کے لئے جدوجہد کریں۔

خان نے کہا میرے مطابق ملک میں تقریباً 20 تا22 کروڑ مسلمان ہیں۔ 22 کروڑ لوگ کیسے اقلیت ہوسکتے ہیں ہم اس طرح سے ایک رنگ دے رہے ہیں۔

“ یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک کتاب ”ہندوستانی مسلمان: آگے بڑھنے کا راستہ“ بھی لکھی ہے اور برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کی تعمیر کے لئے جدوجہد کریں۔

انہوں نے کہا ہمیں معاشرہ کو دینا ہوگا ہمیں چاہئے کہ ہم دینے والے بنیں، سماج کو دیں، اچھے شہری بنیں۔ بجائے اس کے کہ حکومت سے مطالبہ کریں،ہمیں سماج کو دینا چاہئے۔

یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ دستور کی دفعہ 14،15 اور 16کے مطابق کوئی طبقہ یا برادری پسماندہ ہو اور مدد کی ضرورت ہو تو دستور کہتا ہے کہ حکومت ایک موثر اقدام کرے، راجیہ سبھا کے سابق ڈپٹی صدرنشین نے کہا کہ کوئی بھی پارٹی کسی برادری کی طرفداری کرتے ہوئے اقتدار پر نہیں آرہی ہے۔

دستور تمام شہریوں کا تحفظ کرتا ہے ہمارا تحفظ دستور ہے نہ کہ کوئی سیاسی پارٹی۔ رحمن خان نے کہا کہ کوئی بھی پارٹی یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ مسلمان اس کے ساتھ ہیں۔ کانگریس لیڈر 30 اکتوبر کو ہنگل اور سندگی ضمنی انتخابات سے پہلے مسلمانوں کی حمایت کے مسئلہ پر کانگریس اور جے ڈی ایس قائدین کے درمیان سیاسی ٹکراؤ پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ کانگریس ایک سیکولر پارٹی ہے اور گذشتہ 70 برسوں سے سیکولرزم کے تحفظ کے لئے کھڑی رہی ہے اور مسلمانوں نے اس کی حمایت کی۔

یہ بات صحیح نہیں ہے کہ مسلمان صرف کانگریس کی حمایت کرتے ہیں اگر کل کانگریس سیکولر اصولوں کی پاسداری نہ کرے تو اس کے پاس ملک کو دینے کے لئے کچھ نہیں رہے گا۔ اگر کل بی جے پی سیکولرزم کو اختیار کرتی ہے تو مسلمان اس کی بھی حمایت کرسکتے ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.