مغویہ لڑکے کی نعش میسور میں دستیاب‘ دیوالی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل

کارتک کا 3/ نومبر کو اغوا کیا گیا تھا اور دوسرے دن اس کی نعش برآمد ہوئی۔ اس سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ دیگر چار ہنوز فرار ہیں۔

بنگلورو: کرناٹک کے ہاناگوڈ کے ایک تاجر کی دیوالی کی خوشیاں اس وقت ماتم میں بدل گئیں جب اس کے 9سالہ مغویہ لڑکے کی نعش برآمد ہوئی۔

کارتک کا 3/ نومبر کو اغوا کیا گیا تھا اور دوسرے دن اس کی نعش برآمد ہوئی۔ اس سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ دیگر چار ہنوز فرار ہیں۔

چوتھی جماعت کا لڑکاپٹاخے خریدنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا۔ اس کے والد ناگراج کو ملزم کا فون آیا جس نے تاوان کے طور پر4لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا۔ ملزم نے اسے پولیس سے رجوع نہ ہونے کو کہا تھا۔

تاہم ناگراج نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران ملزم نے لڑکے کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

اس نے وہ جگہ بھی بتائی جہاں اس نے لڑکے کو پھینکا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ تاوان کا فون کرنے کے بعد اغوا کاروں کو شناخت ظاہر ہوجانے کی تشویش تھی، لہٰذا لڑکے کا قتل کرکے وہ روپوش ہوگئے۔

اطراف کے علاقوں کے گاؤں والوں کے بھی اس اغوا میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ تحقیقات جاری ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.