چہرے کی نادر سرجری کے ذریعہ 18 کلو کی رسولی نکالی گئی

بنگلورو کے ڈاکٹروں نے سرجری کے بعد اس کے چہرے سے رسولی نکال لی۔ منبودھ باگ نامی اس شخص کے چہرے پر دائیں طرف یہ رسولی لٹکتی تھی۔

بنگلورو: اڈیشہ کے ایک 31سالہ شخص کی زندگی جہنم سے کم نہیں تھی۔ وہ17سالوں سے اپنے چہرے پر 8کلو وزنی رسولی لے کر جی رہا تھا۔ وہ زندگی سے مایوس ہوچکا تھا لیکن اب اسے جینے کی نئی راہ مل گئی ہے۔

بنگلورو کے ڈاکٹروں نے سرجری کے بعد اس کے چہرے سے رسولی نکال لی۔ منبودھ باگ نامی اس شخص کے چہرے پر دائیں طرف یہ رسولی لٹکتی تھی۔

اس کی اس نادر بیماری کو پلیکس فارم نیورو فیبروما کہا جاتا ہے۔ یہ نسوں کا ایک کینسر ہوتا ہے۔ اسے یہ بچپن سے ہوگیا تھا۔ آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور اس نے منبودھ کے سر سے لے کر گردن تک کے حصے کا احاطہ کرلیا۔

منبودھ کی زندگی بے حد تکلیف دہ ہوگئی تھی۔ گزشتہ چھ ماہ میں منبودھ کی ایسٹر سی ایم آئی اسپتال بنگلورو میں رسولی کو نکالنے کے لیے16 سرجریاں کی گئیں۔ دسمبر2020میں شروع ہوئے اس علاج میں 72.7لاکھ روپئے خرچ ہوئے۔ ان کے علاج کے لیے ملاپ نے کراؤڈ فنڈنگ کی تھی۔

منبودھ کے علاج میں نیوروسرجری، پلاسٹک سرجری، اونکولوجی، ای این ٹی، نیورو انیستھیا اور شعبہ امراض چشم کے ڈاکٹر شامل تھے۔ رسولی ان کی پیشانی سے نیچلے جبڑے کے نصف حصے تک دائیں آنکھ تک پھیلی ہوئی تھی۔

سی ٹی اسکان سے پتا چلا کہ اس کے چہرے کی ہڈیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ منبودھ کا علاج کرنے والے کرینیو میکسیلوفیشیل سرجن ڈاکٹر ستیش ایم ایس وششٹ نے کہا کہ چوں کہ رسولی نے ان کے چہر ے کی ہڈیوں کو برباد کردیا تھا اس لیے رسولی کو ہٹاکر ہڈیوں کو پھر سے ٹھیک کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔

“ ڈاکٹر وششٹ نے کہا کہ ان کے سی ٹی اسکان ڈاٹا کے ساتھ ان کے چہرے کا ایک 3ڈی پرنٹیڈ کھوپڑی ماڈل بنایا گیا۔ اس ماڈل سے رسولی کے موقف کا جائزہ لیاگیا اور ڈیزائن ایکسیشن پلان سے ری کنسٹرکٹ کیا گیا۔

منبودھ کی پہلی سرجری دسمبر2020 میں کی گئی تھی اور یہ 19گھنٹے تک جاری رہی۔ نیورو انیستھیسیا کے ہیڈ اڈوائزر ڈاکٹر راگھویندر پائی کے نے کہا کہ سرجری کے پہلے دن انہیں خون کی کمی ہوئی۔

منبودھ کو تقریباً40لیٹر فلوڈس، بلڈ اور بلڈ کمپونینٹس چڑھانے پڑے۔  ڈاکٹر راگھوندر نے کہا کہ ہم اس سرجری کے لیے 12یونٹ بلڈ پہلے سے ریزرو رکھنا تھا لیکن قواعد کے مطابق ہم صرف 8یونٹ رکھ سکتے تھے۔

چو ں کہ ان کی رسولی ان کے منہ کے کھلنے کو متاثر کررہی تھی اس لیے پہلی سرجری کے لیے ان کی سانس کی نالی کو سانس کی نلی میں لے جانا ایک چیلنج تھا۔ آئی سی یو میں تین دنوں تک مستحکم رہنے کے بعد ان کی دوسری سرجری کی گئی۔ یہ سرجری 23گھنٹوں تک جاری رہی۔“

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.