کانگریس قائدین ”تانگے“ سے کرناٹک اسمبلی پہنچے

کانگریس کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی احتجاج میں شامل رہی جو ہاتھوں میں پلے کارڈس، بینرس اور پوسٹرس لیے نعرے بازی کررہے تھے۔

بنگلورو:ریاستی کانگریس نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ”تانگے“ احتجاج کیا۔ کرناٹک اسمبلی میں قائد اپوزیشن سدارامیا، کانگریس کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار او رپارٹی کے ارکان اسمبلی کانگریس دفتر سے گھوڑا گاڑیوں (تانگوں) میں اسمبلی پہنچے۔ جہاں اجلاس کا آج آخری دن تھا۔

کانگریس کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی احتجاج میں شامل رہی جو ہاتھوں میں پلے کارڈس، بینرس اور پوسٹرس لیے نعرے بازی کررہے تھے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے پورا ملک پریشان ہے، کیو ں کہ اس سے دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

عوام سیمنٹ اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مکانات تعمیر نہیں کرپارہے ہیں۔ کووڈ کی مشکلات کے بعد حکومت نے عوام کی کوئی مدد نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس صرف عوام کے تمام گوشوں کی پریشانیوں کے لیے آواز اٹھارہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی 2/ اکتوبر کو گاندھی جینتی سے اکتوبر کا پورا ماہ تمام پنچایتوں اور بلدی وارڈس میں مظاہرے کرے گی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ نریندر مودی کے ملک کا وزیراعظم بننے کے بعد قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔

ان کے مطابق 2014ء میں منموہن سنگھ کی حکومت میں ڈیزل پر صرف3.35روپئے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جسے بڑھا کر 31.84روپئے کردیا گیا۔ واضح رہے کہ اسمبلی اجلاس کے پہلے دن کانگریس قائدین بیل گاڑیوں پر اسمبلی پہنچے تھے جس کے بعد سائیکلوں کا جلوس لے کر اسمبلی پہنچے۔

اس طرح کے احتجاج کا مقصد ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی کی پریشانی کو اجاگر کرنا ہے۔ چیف منسٹر بومئی نے اعداد و شمار کے ساتھ جواب دیا اور کہا کہ کانگریس اور یو پی اے حکومتوں میں مہنگائی زیادہ تھی۔ انہوں نے ”کانگریس لوٹ“ کہہ کر جواب دیا۔

شیوکمار نے الزام عائد کیا کہ حکومت اتنی موٹی چمڑی کی ہے کہ ”جیب کتری“ حکومت کہلائے جانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.