آئی پی ایل میں اپنے آخری دن تک ٹیم کیلئے پرعزم رہوں گا: کوہلی

وراٹ نے بتایاکہ وہ آئی پی ایل میں صرف رائل چیلنجرز کے لیے کھیلتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ میں نے کہا میں خود کو کہیں اور کھیلتا نہیں دیکھتا۔ میرے لیے دیانت داری کسی بھی چیز سے زیادہ اہم ہے۔

شارجہ: وراٹ کوہلی کی کپتانی کا دور جو 2011 میں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) سے شروع ہوا تھا پیر کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف ایلیمینیٹر میچ میں شکست کے ساتھ ختم ہوا۔ آر سی بی کپتان کی حیثیت سے 11 سیزن کے اس دور میں اسے کئی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا (140 میچز ، 64 جیت ، 69 ہار ، تین ٹائی ، چار کوئی نتیجہ نہیں)۔وراٹ نے بتایا کہ انہوں نے اس فرنچائز کے لیے اپنا سب کچھ دیا اور ٹیم میں ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جہاں کھلاڑی آزادانہ کھیل سکیں۔

کوہلی نے براڈ کاسٹر اسٹار اسپورٹس کو بتایا کہ "میں نے اس ٹیم میں ایک ایسا کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جہاں نوجوان کھلاڑی اعتماد کے ساتھ کھیل سکیں اور اپنا اظہار کر سکیں۔ میں نے ہندوستانی ٹیم میں بھی کچھ ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنا سب سے بہترین دیا۔ میں نہیں جانتا کہ اس پر کس طرح کا رد عمل ہوا، لیکن میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ میں نے ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ہر سال اس فرنچائز کو اپنا 120 فیصد دیا ہے۔ اب اگلے تین سالوں کے لیے یہ ایک اچھا وقت ہے کہ وہ دوبارہ منظم ہوں ، فرنچائز کی تشکیل نو کریں اور ایسے لوگوں کو لائیں جو اس ثقافت اور اس ٹیم کو پسند کرتے ہیں۔ اسے آگے لے جا سکتے ہیں۔ "

رائل چیلنجرز آئی پی ایل 2021 میں چوتھے نمبر پر رہی اور ان کی پہلی ٹائٹل جیت کا انتظار اس بار بھی ختم نہیں ہو سکا ، حالانکہ ان کا یہ سیزن بڑی حد تک کامیاب رہا۔ انہوں نے لیگ مرحلے میں 14 میچوں میں نو جیتیں اور صرف نیٹ رن ریٹ پر ٹاپ 2 میں جگہ بنانے سے چک گئے تھے۔

وراٹ نے بتایاکہ وہ آئی پی ایل میں صرف رائل چیلنجرز کے لیے کھیلتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ "جیسا کہ میں نے کہا میں خود کو کہیں اور کھیلتا نہیں دیکھتا۔ میرے لیے دیانت داری کسی بھی چیز سے زیادہ اہم ہے۔ اس فرنچائز نے آئی پی ایل میں اپنے آخری دن تک میری وابستگی اس ٹیم کے لئے ہے۔‘‘

آر سی بی کے ساتھ کپتان وراٹ کا بہترین نتیجہ 2016 میں تھا جب انہوں نے ٹیم کو فائنل تک پہنچایا۔ وہ 2011 میں فائنل میں بھی پہنچے تھے ، لیکن ڈینیل ویٹوری اس سیزن میں باقاعدہ کپتان تھے اور کوہلی نے صرف تین لیگ میچوں میں کپتانی کی۔ وہ 2015 میں تیسرے نمبر پر رہے اور پچھلے سیزن میں بھی ایلیمینیٹر سے باہر ہوگئے تھے۔ 2012–2014 اور 2017–2019 میں اس نے پلے آف میں جگہ نہیں بنائی اور دو مرتبہ آخری پائیدان پر رہے تھے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.