ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کامیاب ٹیم کو 16 لاکھ ڈالر ملیں گے

کووڈ19 کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض اوقات ڈیوٹی پر کم تجربہ کار امپائر ہوسکتے ہیں۔ اس لئے ہر ٹیم کیلئے فی اننگ ناکام اپیلوں کیلئے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میاچس کیلئے 2 اور ٹسٹ کیلئے 3 ڈی آر ایس کی ریویو سہولت دینے کا فیصلہ کیاتھا۔

دبئی: یو اے ای اور عمان میں 17 اکتوبر سے کھیلے جانے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے مجموعی طورپر 56 لاکھ ڈالرز انعامی رقم مختص کرنے کا اعلان کیاہے۔ ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالرز ملیں گے جو تقریباً 27 کروڑ 2 لاکھ روپے ہوتے ہیں۔ رنر اپ ٹیم 8 لاکھ ڈالرز اپنے ساتھ لے کر جائے گی جبکہ سیمی فائنل میں شکست کھانے والی دو ٹیموں کو 4،4 لاکھ ڈالر انعام میں ملیں گے۔ سوپر 12 راونڈ میں ہر میچ کی فتح پر 40 ہزار ڈالرز رکھے گئے ہیں۔ آئی سی سی نے آج جاری کردہ اپنے ایک بیان میں یہ بات بتائی۔

 اسی دوران ٹی 20 عالمی کپ میں پہلی بار ڈسیزن ریویو سسٹم (ڈی آر ایس) کا استعمال کیا جائے گا۔ آئی سی سی کی گورننگ باڈی نے کہاکہ اس ماہ کے آخر میں شروع ہورہے ٹی 20 عالمی کپ میں ڈی آر ایس کی سہولت دستیاب ہوگی۔ آئندہ ٹی۔20 عالمی کپ کیلئے آئی سی سی کی جانب سے رواں ہفتے جاری کی گئی کھیل کی شرائط کے مطابق ہر ٹیم کو فی اننگ زیادہ سے زیادہ دو ریویو لینے کا موقع ملے گا۔ گورننگ باڈی نے گزشتہ سال جون میں تمام فارمیٹ کے ایک میچ کی ہراننگ میں، ہر ٹیم کیلئے ایک اضافی ڈی آر ایس کی تصدیق کی تھی۔

 کووڈ19 کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض اوقات ڈیوٹی پر کم تجربہ کار امپائر ہوسکتے ہیں۔ اس لئے ہر ٹیم کیلئے فی اننگ ناکام اپیلوں کیلئے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میاچس کیلئے 2 اور ٹسٹ کیلئے 3 ڈی آر ایس کی ریویو سہولت دینے کا فیصلہ کیاتھا۔ اس کے ساتھ ہی آئی سی سی نے میچ میں تاخیر اور بارش سے متاثر ہونے والے میاچس کیلئے کم ازکم اوورز کی تعداد بڑھانے کا بھی فیصلہ کیاہے۔

 ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے دوران ہر ٹیم کو ڈی ایل ایس طریقہ کار سے نتیجہ کا فیصلہ کرنے کیلئے کم ازکم 5 اوور بلے بازی کرنی ہوگی۔ تاہم سیمی فائنل اور فائنل کیلئے ہر ٹیم کو نتیجہ کا فیصلہ کرنے کیلئے کم ازکم 10 اووربلے بازی کرنی ہوگی۔ مردوں کے ٹی۔20 ورلڈکپ میں اس سے پہلے ڈی آر ایس استعمال نہیں کیا گیا تھا کیونکہ ایونٹ کا آخری ایڈیشن 2016 میں تھا جب ٹی 20 میں ڈی آر ایس نہیں تھا۔

 2018 خواتین ٹی 20 ورلڈکپ آئی سی سی کا پہلا ٹورنامنٹ تھا جس میں ڈی آر ایس دستیاب تھا۔ اس مقابلے میں ہر ٹیم کے پاس ایک ریویو دستیاب تھا۔ آسٹریلیا میں ویمنس ٹی20 ورلڈ کپ کے 2020 ایڈیشن میں دوبارہ اسی کااستعمال کیاگیا۔ ڈی آر ایس امپائرز کی جانب سے فیصلہ کرنے میں غلطی کے مارجن کو کم کرنے کیلئے بنایا گیاتھا۔

 اس اصول کے ذریعہ اگر کوئی کھلاڑی امپائر کے فیصلے سے ناخوش ہے تو وہ ریویو لے سکتاہے۔ اس کے بعد فیلڈ امپائر تھرڈ امپائر سے مشورہ کرتاہے۔ مینس کرکٹ کی بات کی جائے تو اس کا استعمال 2017 کے بعد سے آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس میں کیا جا رہاہے۔ آئی سی سی کے ضوابط کے تحت، مرد و خواتین کے بین الاقوامی میاچس میں ڈی آر ایس کا استعمال دو طرفہ سیریز کیلئے حصہ لینے والے دونوں بورڈوں کی صوابدید پر ہے کہ وہ اس نظام کا استعمال کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.