آر ایس ایس نظریہ سازوں کی کتب نصاب سے ہٹانے کنور یونیورسٹی کا فیصلہ

جن کتابوں پر تنازعہ پیدا ہوا ان میں ایم ایس گولوالکر، ساورکر اور دین دیال اپادھیائے کی کتب شامل ہیں۔ تنازعہ کے شدت اختیار کرنے کے بعد گزشتہ ہفتہ رویندرن نے رائے ظاہر کی کہ صرف احتجاج کی وجہ سے اس نصاب سے دستبرداری اختیار نہیں کی جائے گی۔

تروننتاپورم: گزشتہ چند دنوں سے سرخیوں میں رہنے کے بعد کنور یونیورسٹی کے وائس چانسلر گوپی ناتھ رویندرن نے آج کہا کہ کنور یونیورسٹی میں پبلک اڈمنسٹریشن میں نئے آغاز کردہ ماسٹرس کورس کے نصاب سے آر ایس ایس کے ممتاز نظریہ سازوں کی کتب ہٹالی جائیں گی۔

 اس مسئلہ کا جائزہ لینے والی دو رکنی ماہرین کی کمیٹی نے سفارش کی کہ اسے تیسرے سیمسٹر میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔ نظرثانی شدہ نصاب بورڈ آف اسٹڈیز کو پیش کردیا گیا اور اکیڈیمک کونسل اس پر قطعی فیصلہ کرے گا۔  ضروری تبدیلیاں کرنے کے بعد اسے چوتھے سیسمسٹر میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

 گزشتہ ہفتہ رویندرن نے سی پی آئی کی حمایت یافتہ اسٹوڈینٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے اس نظریہ کو بادل ناخواستہ قبول کرلیا تھا کہ نصاب سے آر ایس ایس کے ممتاز نظریہ سازوں کی کتب کو ہٹانے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ سبھی کو پڑھ کر اچھے برے پر فیصلہ کرنا ہوگا۔

 یہ تنازعہ ایک ہفتہ تک جاری رہا جب کانگریس زیرقیادت یو ڈی ایف اور سی پی آئی کے سینئر قائد اور راجیہ سبھا رکن بناوائے وسوان نے اس کی شدید مخالفت کی، تاہم ایس ایف آئی میں الجھن تھی کیوں کہ کچھ نے اس کی مخالفت کی اور کچھ نے کہا کہ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

جن کتابوں پر تنازعہ پیدا ہوا ان میں ایم ایس گولوالکر، ساورکر اور دین دیال اپادھیائے کی کتب شامل ہیں۔ تنازعہ کے شدت اختیار کرنے کے بعد گزشتہ ہفتہ رویندرن نے رائے ظاہر کی کہ صرف احتجاج کی وجہ سے اس نصاب سے دستبرداری اختیار نہیں کی جائے گی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.