اردو یونیورسٹی میں”مولانا ابوالکلام آزاد: قومی یکجہتی اور سالمیت کے سفیر‘‘ کے عنوان پر سمپوزیم

پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر نے کہا کہ ایک عالم دین کی حیثیت سے مولانا آزاد کی شخصیت کی تعمیر ہوئی۔ اسلام میں پناہ مانگنے والوں کو پناہ دینے اور خونِ ناحق نہ بہانے کا حکم ہے۔

حیدرآباد: خلافت موومنٹ سے وابستہ ہوکر مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ کوئی بھی شہری کسی بھی باطل حکومت کے خلاف احتجاج کرسکتا ہے۔ ان خیالات نے گاندھی جی کو بھی متاثر کیا۔ پروفیسر آمنہ کشور، سابق ڈین و پروفیسر آزاد چیئر نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں جاری یومِ آزاد تقاریب کے سمپوزیم میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ سمپوزیم ”مولانا ابوالکلام آزاد: قومی یکجہتی اور سالمیت کے سفیر“ کی صدارت پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر نے کی۔

پروفیسر آمنہ کشور نے کہا کہ انٹگریشن کا مطلب اتحاد کی وکالت کرنے والا۔ انٹیگریٹی کا مطلب ایک با اخلاق انسان ہے ۔ یہ دونوں صفتیں مولانا آزاد میں تھیں۔ مولانا آزاد نے خود کو تہری شناخت کی حامل شخصیت یعنی قوم پسند، راسخ العقیدہ مسلمان اور عالمی شہری کے طور پر پیش کیا۔ اس میں انہیں کوئی اختلاف نظر نہیں آیا۔ وہ ان تمام افراد کے خلاف تھے جو ملک میں مذہب کے نام پر اختلافات پیدا کرنا چاہتے تھے۔

پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر نے کہا کہ ایک عالم دین کی حیثیت سے مولانا آزاد کی شخصیت کی تعمیر ہوئی۔ اسلام میں پناہ مانگنے والوں کو پناہ دینے اور خونِ ناحق نہ بہانے کا حکم ہے۔ یہ احکام کس طرح بہترین سماج کی تشکیل کرتے ہیں، اسے سمجھا جاسکتا ہے۔ یہی وہ صفات تھیں جنہوں نے مولانا آزاد کو وہ مقام دلایا جس پر فائز تھے۔ اسی پر آگے بڑھ کر مولانا آزاد نے قومی یکجہتی اور بھائی چارگی کو فروغ دینے کی حتی الامکان کوششیں کیں۔ ہم بھی اس پر عمل کرتے ہوئے ملک کی ترقی کو یقینی بناسکتے ہیں۔

پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج و صدر نشین یومِ آزاد تقاریب نے خیر مقدمی خطاب میں کہا کہ جس طرح ہر انسان مثبت تبدیلی و ترقی چاہتا ہے اسی طرح ہم ملک میں مثبت تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس کے لیے مادی اور انسانی وسائل دونوں کی ہمارے پاس کمی نہیں ہے۔ جاپان اور اسرائیل مادی وسائل کی کمی کے باوجود ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور علاقوں کے تنوع کو ملک کی خوبصورتی قرار دیا۔ کئی قائدین نے اتحاد و یکجہتی کا درس دیا۔ اس میں سب سے اہم اور نمایاں شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد کی تھی۔ اگر ہمیں ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے تو مولانا آزاد کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہوگا۔

 پروفیسر محمد محب الحق، شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا کہ مولانا آزاد اور سرسید نے قومیت کے فروغ میں اسلام کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ مولانا آزاد نے کہا تھا قومیت کی بنیاد صرف مذہب نہیں ہوسکتا۔ مولانا آزاد نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو آپس مل جل کر رہنے کی راہ دکھائی تھی۔ پروفیسر محب الحق نے مولانا آزاد کو ہندو مسلم اتحاد قومی سلامتی کا استعارہ قرار دیا۔

پروفیسر محمد نسیم الدین فریس، ڈین اسکول آف لینگویجس، مانو نے کہا کہ مولانا آزاد نے تحریروں کے ذریعہ لوگوں میں حریت کا جذبہ اور آزادی کی لگن پیدا کی۔ مولانا آزاد محض آزادی کے حصول کے لیے اتحاد نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ انسانیت کے فروغ کے لیے اتحاد چاہتے تھے۔ کچھ رجعت پسندوں اور مسلم لیگ نے دو قومی نظریہ پیش کیا تو وہ اس کے کٹر مخالف ہوگئے۔

انہوں نے آزادی کو مسلمانوں کے لیے حب الوطنی کا مسئلہ نہیں بلکہ دینی فریضہ اور جہاد فی سبیل اللہ قرار دیا تھا۔ باوجود کہ مولانا آزاد ایک عالم دین تھے انہوں نے ساہتیہ اکیڈیمی اور للت کلا اکیڈیمی قائم کی۔ کیونکہ وہ ہندوستان کے اتحاد کے لیے فنون لطیفہ کے فروغ کو ضروری سمجھتے تھے۔ آج کے تصادم بھرے ماحول میں مولانا آزاد کا اتحاد کا پیغام ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔

ڈاکٹر احمد خان، اسوسیئٹ پروفیسر سی یو سی ایس و کنوینر یومِ آزاد تقاریب نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین، کوآرڈینیٹر سمپوزیم نے کاروائی چلائی۔ جناب عاطف عمران، استاد اسلامیات کی قرات کلام پاک پروگرام کا آغاز ہوا۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.