طلبہ، قوم کا مستقبل ہیں : پروفیسر رحمت اللہ

پروفیسر رحمت اللہ نے اپنے خطاب میں قلم کی طاقت پر زور دیا اور کہا کہ تعلیم ایک ایسا ذریعہ ہے جو لوگوں کو ان کی بہترین صلاحیتوں کو سامنے لانے کی ترغیب دلا سکتا ہے۔

حیدرآباد: طلبہ قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انہیں بلندیوں پر پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے نئے طلبہ کے آن لائن تعارفی پروگرام دیکشارمبھ کے افتتاحی سیشن میں یکم /اکتوبر کو ان خیالات کا اظہار کیا۔

ڈین، بہبودی طلبہ کی جانب سے این سی ٹی ای اور اے آئی سی ٹی ای سے منظورہ کورسز میں داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے یہ تعارفی پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ پروفیسر رحمت اللہ نے اپنے خطاب میں قلم کی طاقت پر زور دیا اور کہا کہ تعلیم ایک ایسا ذریعہ ہے جو لوگوں کو ان کی بہترین صلاحیتوں کو سامنے لانے کی ترغیب دلا سکتا ہے۔

انہوں نے حصول تعلیم کے دوران صبر کی ضرورت پر توجہ دلائی اور کہا کہ اس سے انسان کا کردار نکھرتا ہے۔پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج و ڈین، اسکول برائے تعلیم و تربیت نے طلبہ کو زندگی میں ’خاص سمت اور مقصد‘کے تعین پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر معمولی کامیابی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی اپنے آسائش کے دائرے سے باہر نکلتا ہے۔ پروفیسر عبدالواحد، ڈین، اسکول برائے ٹیکنالوجی اور پروفیسر سنیم فاطمہ، ڈین، اسکول آف کامرس اینڈ بزنس مینجمنٹ سیشن کے مہمان اعزازی تھے۔

پروفیسر سید علیم اشرف جائسی، ڈین بہبودیئ طلبہ نے ’خطبہ استقبالیہ‘ پیش کیا۔ پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی، صدرنشین، ایس آئی پی ٹاسک گروپ نے تعارفی پروگرام کے اغراض و مقاصد اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر کہکشاں لطیف، کنوینر نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر جرار احمد، اسسٹنٹ ڈین، بہبودیئ طلبہ نے نظامت کی۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.