مالیگاؤں اردو کتاب میلہ: اردو کی آبیاری میں مالیگاؤں کی ادبی انجمنوں کے کردار پر مذاکرہ اور مقابلہ شاعری

ظہیر قدسی نے کہا کہ مالیگاؤں میں انیسویں صدی میں ہی تحریر و تصنیف کے نمونے ملتے ہیں البتہ یہاں شاعری زیادہ ہوئی ہے، اب بھی یہاں شعرا زیادہ ہیں،مگر پچھلی دو تین دہائیوں میں نثر نگاری کی طرف بھی رجحان بڑھا ہے

مالیگاؤں: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام جاری چوبیسویں اردو کتاب میلے کے چھٹے دن بھی شائقینِ علم و ادب میں غیر معمولی رہی اور مالیگاؤں سمیت دوسرے شہروں کے لوگ بھی کتابوں کی خریداری کرتے نظر آئے۔

آج دو اہم پروگراموں کا بھی انعقاد ہوا جن میں سے ایک ’اردو کی آبیاری میں مالیگاؤں کی ادبی انجمنوں کا کردار‘ کے عنوان سے تھا، جس میں شہر مالیگاوں کی مختلف ادبی تنظیموں کے ذمے داران و سربراہان اور مصنّفین نے حصہ لیا۔

اس پروگرام کی صدارت مالیگاؤں کے سینئر شاعر و ناقد ڈاکٹر اشفاق انجم نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے مالیگاؤں میں اردو نثر نگاری کی تاریخ پر خصوصی روشنی ڈالتے ہوئے یہاں کے ابتدائی نثر نگاروں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ہمیں اپنے اسلاف کی خدمات کو یاد رکھتے ہوئے اردو زبان و ادب کی خدمت میں اپنی بھرپور توانائی صرف کرنی چاہیے۔

ان سے قبل جناب ظہیر قدسی نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے مالیگاؤں کی ادبی انجمنوں اور اداروں کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ مالیگاؤں میں انیسویں صدی میں ہی تحریر و تصنیف کے نمونے ملتے ہیں البتہ یہاں شاعری زیادہ ہوئی ہے، اب بھی یہاں شعرا زیادہ ہیں،مگر پچھلی دو تین دہائیوں میں نثر نگاری کی طرف بھی رجحان بڑھا ہے اور کئی انجمنیں نثر نگاری کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔

اسی کا نتیجہ ہے کہ نثری اصناف پر بھی بہت عمدہ کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ محبان ادب کے صدر ہارون اختر نے کہا کہ علم و ادب کے حوالے سے مالیگاؤں کی مٹی بہت زرخیز ہے اسی وجہ سے یہاں شاعر و ادیب بکثرت پاٰئے جاتے ہیں۔ سلیم جہانگیر نے کہا کہ مالیگاؤں اردو کے فروغ کے حوالے سے نہایت موزوں شہر ہے اور یہاں کونسل اپنا مقامی دفتر قائم کرکے اس شہر کی اردو نوازی کا دائرہ قومی سطح تک بڑھا سکتی ہے۔

جناب رفیق مومن نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی انجمنوں اور ادبی نشستوں سے ہی ادب کا فروغ ہوتا ہے، اس لیے ان کی اہمیت کو ذہن میں رکھ کر ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ جناب لئیق انور نے مالیگاؤں کی ادبی سرگرمیوں کے تاریخی مراحل پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں انھوں نے مالیگاؤں کی ادبی تنظیموں خصوصا انجمن ترقی پسند مصنّفین، بزم ارباب ذوق، زندہ دلانِ ادب، اربابِ قلم، محبان ادب، جواز رائٹر گروپ، ادارہئ نثری ادب، قلم دان کی کارکردگی اور خدمات کا خصوصی تذکرہ کیا۔

اسکس لائبریری کے عثمان غنی اسکس نے بھی شہر کی ادبی سرگرمیوں خصوصا اسکس لائبریری کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انجمن ترقی اردو مالیگاؤں کے سربراہ خیال انصاری نے اردو کے فروغ میں انجمن کی کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فروغ اردو کے ساتھ اردو فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کے اعتراف کا بھی سلسلہ شروع کیا ہے جو اب بھی جاری ہے۔

جناب عبدالمجید صدیقی نے کہا کہ اردو دنیا میں مالیگاؤں کا نام احترام سے لیاجاتا ہے کیونکہ بزرگوں نے جو چراغ جلایا تھا اس کی روشنی اب بہت تیز اور ہمہ گیر ہوگئی ہے، ضرورت ہے کہ ہم اس روشنی کو یونہی قائم رکھیں۔ اس پروگرام کی نظامت جناب طاہر انجم صدیقی نے کی۔

دوسرا پروگرام پوئٹری کمپٹیشن کا گیارہ اسکولوں کی طالبات کے مابین منعقد ہوا۔اس کی نظامت ڈاکٹر آصف فیضی نے کی، جج جناب شاہد اختر تھے۔ صدارت شکیل جمیل حسن نے کی، جبکہ فیروز دلاور مہمان خصوصی تھے۔

اس کمپٹیشن میں گیارہ اسکولوں کی طالبات نے حصہ لیا اور مالیگاؤں گرلس ہائی سکول کی طالبہ نے اول،جے اے ٹی ہائی اسکول کی طالبہ نے دوم اور مالیگاؤں ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کی طالبہ نے سوم پوزیشن حاصل کی۔حوصلہ افزائی کے لیے کامیاب ہونے والی طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔

آج بھی میلے میں شہر کی مختلف موقر شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری رہا،جن میں سول جج جناب اعجاز سید،مالیگاؤں جمعیت علما کے جناب محمد مصطفی مکی اور جمعیت اہلحدیث مالیگاؤں کے امیر محترم ڈاکٹر سعید احمد فیضی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔

قومی کونسل کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر اور میلہ انچارج اجمل سعید اور سپرنٹنڈنٹ منیر انجم نے ان مہمانوں کا گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ موقر مہمانوں نے میلے میں آکر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میلہ جہاں ملک بھر کے سیکڑوں پبلشرز عمدہ اور گراں قدر کتابیں لے کر آئے ہیں اور ڈیڑھ سو سے زائد اسٹالز پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں،جن سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ کتابیں خریدنی چاہیے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.