مانو میں اکتسابی وسائل کے فروغ پر 5 روزہ آن لائن ورکشاپ کا آغاز

استاد کے لئے غیر جانبدار ہونا بنیادی شرط ہے۔ اسے درس و تدریس کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے دلکش اکتسابی وسائل کا استعمال کرنا چاہیے۔

حیدرآباد: علم و آگہی کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ معلم کو اگر اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو جائے تو وہ طلبہ کی مخفی صلاحیتوں کو پر وان چڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

ان خیالات کا اظہارشیخ الجامعہ، پروفیسر سید عین الحسن نے مرکز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم (سی پی ڈی یو ایم ٹی)، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام اکتسابی وسائل کے فروغ (Developing Learning Resources) پر5 روزہ آن لائن ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ استاد کے لئے غیر جانبدار ہونا بنیادی شرط ہے۔ اسے درس و تدریس کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے دلکش اکتسابی وسائل کا استعمال کرنا چاہیے۔ اسے اپنا محاسبہ کرتے رہنا چا ہئے اور طلبہ کے خیالات کی قدر کرنی چا ہیے۔

اس موقع پر پروفیسرمحمد عبدالسمیع صدیقی، ڈائرکٹرمرکز نے آن لائن ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر اشونی، اسو سی ایٹ پروفیسر، شعبہ تعلیم و تربیت نے افتتاحی اجلاس کی کاروائی چلائی جبکہ ڈاکٹر محمد غفران برکاتی، اسسٹنٹ پروفیسر نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔

قبل ازیں، ڈاکٹر عبدالعلیم کی تلاوت قرآن پاک سے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔ پہلے تکنیکی اجلاس میں پروفیسر صدیقی محمد محمود نے ”سیکھنے کے وسائل:مقاصد، اقسام اور اہمیت“ کے عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انسٹرکشنل میڈیا سنٹر، مانو کے یوٹیوب چینل پر ورکشاپ کے سیشنس کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جارہا ہے۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.