گاندھی جینتی کے موقع پر بابائے قوم کو اردو یونیورسٹی کا خراج

پروفیسر عین الحسن نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ دورمیں عدم تشدد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدم تشدد تمام مذاہب کی تعلیمات کا حصہ ہیں اور کوئی بھی مذہب تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔

حیدرآباد: دنیا کے تمام مذاہب عدم تشدد کا درس دیتے ہیں۔ لیکن مہاتما گاندھی نے ہندوستانی ثقافت کے امتزاج کے ساتھ اسے آزادی کی جدوجہد میں انگریزوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت لیکچر سیریز کے ایک حصے کے طور پر’ ’’سواتنترا سنگرام، گاندھی اور ہندی“ کے موضوع پر منعقدہ لیکچر میں کیا۔ اس طرح اردو یونیورسٹی نے گاندھی جینتی سے ایک دن قبل بابائے قوم کو خراج پیش کیا۔

پروگرام کا اہتمام آزادی کا امرت مہوتسو کمیٹی، این ایس ایس اور شعبہ ہندی، مانو نے مشترکہ طور پر عدم تشدد تقریبات کے موقع پر کیا ۔

پروفیسر عین الحسن نے موجودہ دورمیں عدم تشددکی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پروفیسر محمد فریاد ،صدرنشین، کمیٹی نے افتتاحی تقریر کی۔ ڈاکٹر کرن سنگھ اتوال، صدر شعبہ ہندی نے اس موقع پر اپنے لیکچر میں گاندھی جی کے ذریعے ہندی زبان کے فروغ ،جدوجہد آزادی میں ہندی شاعری اور شاعروں کے کردار کا احاطہ کیا۔ ڈاکٹر اروندھتی، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں، جشن آزادی کے حصے کے طور پر "آزادی کی جدوجہد اور مہاتما گاندھی” پر طلباءکے لیے کوئز مقابلہ بھی منعقد کیا۔ کوئز مقابلے میں 300 سے زائد طلبہ نے حصہ لیا۔ ڈاکٹر اروندھتی کوآرڈنیٹر تھیں۔پروفیسر صدیقی محمود، رجسٹرار انچارج نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی آزادی کے لیے عوام کی جانب سے دی گئی قربانیوں کو یاد کیا۔ ڈاکٹر شیخ قمر الدین، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ مینجمنٹ اینڈ کامرس نے شکریہ ادا کیا۔

پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، پرو وائس چانسلر نے گاندھی جی کی زندگی اور ان کے اقدار پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ ہر ایک کو ان پر عمل کرنا چاہیے۔ اس موقع پر فلم ’گاندھی‘ کی نمائش بھی کی گئی۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.