بنگال میں بی جے پی حامی فنکاروں پر عرصہ حیات تنگ، سوکانتا مجمدار کا الزام

بی جے پی کے ریاستی صدرسوکانتا مجمدار کے اس بیان پر ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ نصرت جہاں نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹالی ووڈ پر سیاست کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہاں ہر باصلاحیت فنکار کو کام ملتا ہے۔

کلکتہ: بنگالی اداکارہ شرابنتی چٹرجی کے بی جے پی چھوڑنے پر بنگال بی جے پی کے صدر و رکن پارلیمنٹ سوکانتا مجمدار نے آج کہا ہے کہ بی جے پی میں شامل اداکاروں کو کام نہیں مل رہا ہے۔ ٹالی ووڈ پر ترنمول کانگریس کا دبدبہ اس طرح کا ہے کہ کوئی بھی ایسا اداکار جو ترنمول کانگریس کے علاوہ دوسری پارٹی میں ہے اسے کام نہیں دیا جارہا ہے۔ اس لئے میں یہ کہوں گا کہ اگر بی جے پی چھوڑنے کی وجہ سے کام مل جاتا ہے تو کام چھوڑ دیں۔

بی جے پی کے ریاستی صدرسوکانتا مجمدار کے اس بیان پر ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ نصرت جہاں نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹالی ووڈ پر سیاست کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہاں ہر باصلاحیت فنکار کو کام ملتا ہے۔

سوکانتا مجمدارنے کہا کہ ٹالی ووڈ میں گروپ بندی اور بی جے پی میں شامل اداکاروں کے بائیکاٹ کی وجہ سے فنکاربی جے پی چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اداکار ردرنیل گھوش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت اداکار ہیں مگر وہ بی جے پی میں ہیں، اس لئے گزشتہ ایک سال سے انہیں کوئی کام نہیں مل رہا ہے۔

ترنمول ایم پی اور اداکارہ نصرت جہاں نے بی جے پی کے ریاستی صدر کے الزام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’’شاید ٹالی ووڈ میں کسی کو بھی اس مسئلے کا سامنا نہیں ہے۔ ایسی باتیں صرف بی جے پی کے سیاسی ترجمان ہی کرتے ہیں۔ یہاں بہت سارے لوگ ہیں جو دوسری پارٹیوں میں ہیں لیکن وہ کام کر رہے ہیں۔ نصرت نے مزید دعویٰ کیاکہ سیاست اور سنیما میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں خود بھی ایم پی ہوں، فلمیں بھی کرتی ہوں۔ آپ کو دونوں کے درمیان کوئی تعلق نظر نہیں آئے گا۔ یہاں ہر کسی کو صلاحیت کے مطابق کام ملتا ہے۔

بی جے پی لیڈر شیامک بھٹاچاریہ نے کہا کہ شرونتی اپنی مرضی سے بی جے پی میں آئی تھیں، اب چھوڑ رہی ہیں۔ لیکن اگر شرونتی بی جے پی چھوڑ دیتی ہیں تو بھی پارٹی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

ترنمول کانگریس کے ترجمان کنال گھوش نے بی جے پی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی بھی بی جے پی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ یہ ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے۔ اس لئے انتخابات کے بعد لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.