آج میں نے افغانستان کو آزاد کرادیا، ذبیح اللہ مجاہد سے انٹرویو

مجاہد نے جو برسہا برس تک پس پردہ رہے ہیں یہ بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے شمال مغربی پاکستان کے علاقہ نوشیرا میں حقانیہ درس گاہ میں تعلیم حاصل کی ہے جس کو بین الاقوامی طور پر طالبان یونیورسٹی یا ”یونیورسٹی آف جہاد“ بھی قرار دیا گیا ہے۔

اسلام آباد: طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جو گذشتہ ماہ کابل پر اس انتہا پسند گروپ کے کنٹرول کے بعد دس سال میں پہلی مرتبہ ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے۔

 کہا کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت میں دشمنوں کے رہنے کے مقام کے بالکل قریب رہتے تھے جو جنگ کے دوران ان کو ”بھوت جیسا“ سمجھتے تھے۔

 مجاہد نے جو برسہا برس تک پس پردہ رہے ہیں یہ بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے شمال مغربی پاکستان کے علاقہ نوشیرا میں حقانیہ درس گاہ میں تعلیم حاصل کی ہے جس کو بین الاقوامی طور پر طالبان یونیورسٹی یا ”یونیورسٹی آف جہاد“ بھی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے اخبار اکسپریس ٹریبون کو انٹریو میں کہا ”وہ (امریکی اور افغان افواج) یہ سمجھتے تھے کہ میرا کوئی وجود نہیں ہے“۔ 43 سالہ ترجمان نے کہا ”میں کئی مرتبہ ان کے حملوں میں محفوظ رہا اور مجھے پکڑنے کیلئے کوششیں ناکام ہوگئیں جس کے باعث وہ یہ سمجھتے تھے کہ ذبیح اللہ ایک اختراعی شخصیت ہے اور یہ حقیقی آدمی نہیں ہے اور اس کا کوئی وجود نہیں ہے“ ”اور میں اب افغانستان کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوگیا ہوں“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جانب سے طالبان کے بانی ملا عمر کو کبھی نہیں دیکھا گیا اور ان کی اُن سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ”مگر میں نے شیخ ملا منصور اور شیخ ہبت اللہ کے ساتھ کام کیا ہے جن کا ملا عمر کے جانشینوں میں شمار ہوتا ہے“۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.