افغان خواتین کا طالبان اور پاکستان کیخلاف احتجاج

 طالبان نے احتجاج کو کچلنے اندھادھند فائرنگ کردی۔ بعض لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے لیکن تفصیلات نہ مل سکیں۔ بعض مقامی صحافیوں کے بموجب کئی میڈیا نمائندوں کو جو احتجاج کا کوریج کررہے تھے‘ کوریج سے روک دیا گیا اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل اور کئی دیگر شہروں میں منگل کے دن طالبان کے خلاف بڑا احتجاج ہوا۔ طالبان نے احتجاج کو دبانے اندھادھند فائرنگ کی۔ ہزاروں افراد (زیادہ تر خواتین) کابل اور دیگر شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ طالبان اور پاکستان کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ آزادی‘ آزادی اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔

 احتجاجیوں نے جو پلے کارڈ تھام رکھے تھے‘ ان پر افغانستان زندہ باد‘ پاکستان مردہ باد‘ مزاحمت زندہ باد لکھا تھا۔ انہوں نے سڑکوں پر مارچ کیا۔ مزاحمتی فورسس کے رہنما احمد مسعود نے ایک دن قبل آڈیو پیام میں افغانستان کے عوام سے پرزور اپیل کی تھی کہ طالبان کی ”ظالم اور منحوس“ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

 طالبان نے احتجاج کو کچلنے اندھادھند فائرنگ کردی۔ بعض لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے لیکن تفصیلات نہ مل سکیں۔ بعض مقامی صحافیوں کے بموجب کئی میڈیا نمائندوں کو جو احتجاج کا کوریج کررہے تھے‘ کوریج سے روک دیا گیا اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

طالبان لڑاکوں نے خاتون احتجاجیوں کے ایک گروپ کو زیرزمین کار پارکنگ میں بند کردیا تاکہ وہ احتجاج میں حصہ نہ لے سکیں۔ طالبان نے کئی احتجاجیوں کو مارا پیٹا۔ احتجاج‘ پیر کی رات ہی کابل اور مزار (مزار شریف) میں شروع ہوگیا تھا۔ سینکڑوں لوگ پاکستان کے خلاف نعرے بازی کرتے سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ پنج شیر کی مزاحمتی فورسس کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔

قبل ازیں کئی افغان‘ کابل میں پاکستانی سفارت خانہ کے سامنے اکٹھا ہوئے تھے۔ وہ افغانستان میں پاکستان کی سرکاری تائیدی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ انہوں نے مرگ پاکستان (پاکستان مردہ باد) کے نعرے لگائے۔ احتجاجیوں نے کابل‘ صوبہ غزنی اور دیگر مقامات میں جلوس نکالے۔ اللہ اکبر‘ ہم آزاد حکومت چاہتے ہیں‘ ہم پاکستان کی کٹھ پتلی حکومت نہیں چاہتے‘ پاکستان‘ افغانستان سے چلا جائے کے نعرے سنائی دیئے۔

(یواین آئی)

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.