افغان خواتین یونیورسٹیوں میں تعلیم جاری رکھیں: عبدالباقی حقانی

دنیا غور سے دیکھ رہی ہے کہ طالبان‘ پچھے دور حکومت سے اس بار کتنے مختلف ہیں۔ 1990کے دہے میں طالبان کے پچھلے دور میں لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا گیا تھا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ بدل گئے ہیں۔

کابل: نئی طالبان حکومت کے وزیراعلیٰ تعلیم نے اتوار کے دن کہا کہ افغانستان میں خواتین‘ یونیورسٹیوں میں تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں بشرطیکہ کلاس رومس میں لڑکے لڑکیوں کو الگ الگ بٹھایا جائے اور اسلامی لباس لازمی ہے۔

 وزیر عبدالباقی حقانی نے نیوز کانفرنس میں نئی پالیسیاں سامنے رکھیں۔ دنیا غور سے دیکھ رہی ہے کہ طالبان‘ پچھے دور حکومت سے اس بار کتنے مختلف ہیں۔ 1990کے دہے میں طالبان کے پچھلے دور میں لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا گیا تھا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ بدل گئے ہیں۔ خواتین کے تعلق سے بھی ان کے رویہ میں تبدیلی آئی ہے۔

 عبدالباقی حقانی نے کہا کہ طالبان‘ گھڑی کو 20سال پیچھے نہیں کرنا چاہتے۔ ہم آج کی حقیقت کے لحاظ سے آگے بڑھنا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں حجاب لازمی ہوگا۔ ہم لڑکے لڑکیوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ ہم مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں پڑھائے جانے والے مضامین پر نظر ثانی ہوگی۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.