تائیوان پر آگ سے کھیلنے والے جل جائیں گے:شی جنپنگ

جنپنگ نے کہا کہ ایسی کوششیں انتہائی خطرناک ہوں گی جیسا کہ آگ سے کھیلنے پر ہوتا ہے۔ جو بھی آگ سے کھیلے گا وہ جل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک ہی چین اور تائیوان‘ چین کا حصہ ہے۔

بیجنگ ؍ واشنگٹن: اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ آن لائن چوٹی کانفرنس میں جس کا دیرینہ انتظار تھا‘ سخت موقف اختیار کرتے ہوئے صدر چین شی جنپنگ نے منگل کے دن کہا کہ چین یقینا اپنے اقتدارِ اعلیٰ اور سیکوریٹی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی تائیوان پر آگ سے کھیلے گا وہ جل جائے گا۔ زائداز 3 گھنٹے طویل چوٹی کانفرنس میں مختلف امور پر تفصیلی تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کا ابھرنا تاریخ میں لازمی رجحان ہے اور اسے روکا نہیں جاسکتا۔

 تائیوان پر جہاں چین نے جزائری ایر ڈیفنس زون میں 200 سے زائد فوجی طیارے تعینات کردیئے ہیں‘ 68 سالہ شی جنپنگ نے کشیدگی کی وجہ تائیوان کے حکام کا اپنی آزادی کے ایجنڈہ کے لئے امریکی تائید کا خواہاں ہونا اور بعض امریکیوں کا چین پر قابو پانے کے لئے تائیوان کے استعمال کا ارادہ ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں انتہائی خطرناک ہوں گی جیسا کہ آگ سے کھیلنے پر ہوتا ہے۔ جو بھی آگ سے کھیلے گا وہ جل جائے گا۔

 انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایک ہی چین اور تائیوان‘ چین کا حصہ ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت‘ چین کی نمائندگی کرنے والی واحد قانونی حکومت ہے۔ شی جنپنگ نے چین کا ابھرنا روکنے کی امریکی کوششوں کے بظاہر حوالہ سے کہا کہ اس تاریخی رجحان کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو چینی عوام مستردکردیں گے۔ یہ کوشش کسی بھی طرح کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ چینیوں کا قائد ہونے کے ناطہ چینیوں کو بہتر زندگی فراہم کرنا بڑا چیلنج اور بڑی ذمہ داری ہے۔

 انہوں نے کہا کہ میں اپنی فلاح و بہبود پرے رکھ دوں گا اور عوام کی توقعات  پر پورا اترنے کے لئے جیؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ دو ممالک کے درمیان اختلافات ہونا فطری ہے۔ اصل بات ان سے تعمیری انداز میں نمٹنے کی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ چین یقینا اپنے اقتدارِ اعلیٰ‘ سیکوریٹی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے سماجی سسٹم‘ترقی کی راہوں اور مفادات کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کو ٹکراؤ سے گریز کرنا چاہئے۔ انہیں ”وِن وِن کوآپریشن“ کے ساتھ پرامن بقائے باہم پر عمل کرنا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے مفادات بڑی حد تک ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ تعاون سے انہیں بڑھاوا ملے گا اور ٹکراؤ سے نقصان ہوگا۔ دنیا اتنی بڑی ہے کہ ہر ملک الگ الگ اور مل جل کر ترقی کرسکتا ہے۔ چین‘ امریکہ تعاون شاید تمام مسائل حل نہ کرپائے لیکن بعض مسائل اس تعاون کے بغیر حل نہیں ہوسکتے۔ اپنے کئی بلین ڈالر کے محبوب پراجکٹ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (بی آر آئی) یا جو بائیڈن کے بیلٹ بیاک بیٹر ورلڈ (بی 3 ڈبلیو) کا حوالہ دیئے بغیر شی جنپنگ نے کہا کہ چین کی ساری عالمی پہل امریکہ کے لئے کھلی ہے۔

 انہوں نے جمہوری نظام والے ممالک کو متحد کرنے کی جو بائیڈن کی کوششوں پر تنقید کی اور کہا کہ کوئی ملک جمہوریت ہے یا نہیں یہ فیصلہ اس کے عوا م پر چھوڑدینا چاہئے۔ چین میں ایغور مسلمانوں کی نسل کشی کے امریکی الزام کے بظاہر حوالہ سے شی جنپنگ نے کہا کہ چین باہمی احترام کی بنیاد پر انسانی حقوق پر بات چیت کے لئے تیار ہے لیکن ہم دیگر ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کے لئے انسانی حقوق کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔ شی جنپنگ اور جو بائیڈن نے ستمبر میں فون پر تفصیلی گفتگوکی تھی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.