جکارتہ کی جیل میں آتشزدگی‘ 41 قیدی ہلاک

ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ فائر فائٹرس آگ بجھانے کے لئے بڑی مشقت کررہے ہیں۔ کمپاؤنڈ سے سیاہ دھواں اٹھ رہا ہے۔ انڈونیشیائی ریڈ کراس کے عہدیداروں نے زخمی قیدیوں کو ایمبولنس گاڑیوں کے ذریعہ ہسپتال منتقل کیا جبکہ جکارتہ کے مضافات میں واقع ٹیانگرنگ جیل کے ایک کمرہ میں آرینج بیاگس میں کئی نعشیں پڑی تھیں۔

جکارتہ: انڈونیشیا کے دارالحکومت کے قریب چہارشنبہ کے دن ایک جیل میں جہاں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے گئے تھے‘ مہیب آگ بھڑک اٹھی۔

کم ازکم 41  قیدی ہلاک ہوگئے جن میں 2  غیرملکی قیدی شامل ہیں جو منشیات کی اسمگلنگ کی پاداش میں سزا کاٹ رہے تھے۔ دیگر 80  قیدی زخمی ہوئے۔ ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ فائر فائٹرس آگ بجھانے کے لئے بڑی مشقت کررہے ہیں۔

کمپاؤنڈ سے سیاہ دھواں اٹھ رہا ہے۔ انڈونیشیائی ریڈ کراس (صلیب ِ احمر) کے عہدیداروں نے زخمی قیدیوں کو ایمبولنس گاڑیوں کے ذریعہ ہسپتال منتقل کیا جبکہ جکارتہ کے مضافات میں واقع ٹیانگرنگ جیل کے ایک کمرہ میں آرینج بیاگس میں کئی نعشیں پڑی تھیں۔

مرنے والوں میں بیشتر منشیات کی اسمگلنگ میں سزا کاٹ رہے تھے۔ دو غیرملکی قیدیوں میں ایک کا تعلق جنوبی افریقہ سے اور دوسرے کا پرتگال سے تھا۔ایک قیدی‘ دہشت گردی معاملہ میں اور ایک قتل کے مقدمہ میں جیل میں بند تھا۔ یہ دونوں بھی جان سے گئے۔

انڈونیشیا کے وزیر انصاف و انسانی حقوق یسونالاؤلی نے میڈیا کو یہ بات بتائی۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ جیل بلاک سی 2 کی 19 کوٹھڑیوں میں سے ایک کوٹھڑی میں کل رات لگ بھگ 1:45 بجے آگ بھڑک اٹھی۔ آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جاتی ہے۔

جکارتہ پولیس کے سربراہ فاضل عمران نے یہ بات بتائی۔ بلاک سی 2 میں 122 قیدی ٹھونسے گئے تھے۔ آگ بجھنے کے بعد سینکڑوں پولیس والوں نے جیل کے اطراف گھیرا ڈال دیا تاکہ قیدی بھاگ نہ جائیں۔

(اے پی)

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.