دوحہ میں طالبان کی امریکی اور یورپی نمائندوں سے ملاقات

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مثبت رشتوں کے خواہاں ہیں۔ طالبان کی قیادت منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

دوحہ: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور یورپی یونین کے نمائندوں کے ساتھ طالبان کے بالمشافہ مذاکرات ہوئے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق منگل کو ہونے والے مذاکرات میں افغانستان کے نئے حکمران اس کوشش میں ہیں کہ ان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے علاوہ وہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے امداد کے طلب گار ہیں۔

 اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کو معاشی طور پر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے امداد دیں اور ساتھ ہی انہوں نے افغان خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے کیے گئے طالبان کے ’کھوکھلے‘ وعدوں پر بھی تنقید کی۔یورپی یونین کی نمائندہ نبیلہ مسرالی نے کہا کہ اس ملاقات سے ’امریکہ اور یورپ کو افغانستان سے مزید لوگوں کے انخلا، امدادی سامان کی ترسیل کے لیے رسائی اور خواتین کے حقوق کے احترام سمیت افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دینے جیسے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیکینیکل لیول پر یہ غیر رسمی مذاکرات تھے اور اس کا مطلب طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنا نہیں۔‘بین الاقوامی امداد کی بندش، خوراک کی قمیت میں اضافے اور تیزی سے بڑھتی بے روزگاری کے باعث افغانستان کی معاشی صورتحال بہت خراب ہے اور طالبان کو امداد کی سخت ضرورت ہے۔

دیگر ممالک نے ابھی تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اسے داعش کی طرف سے کیے جانے والے حملوں کی وجہ سے سکیورٹی کے مسائل بھی لاحق ہیں۔قطر میں یورپی یونین کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان ہونے ملاقات سے قبل جرمن حکام نے طالبان سے بات کی تھی۔

 طالبان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مثبت رشتوں کے خواہاں ہیں۔طالبان کی قیادت منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ طالبان حکومت میں کارگزار وزیر خارجہ عامر خان متقی نے کل کہا کہ دوسرے ممالک کے نمائندوں کے ساتھ بھی مثبت ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا, ہم پوری دنیا کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم متوازن بین الاقوامی تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ اس طرح کے متوازن تعلقات افغانستان کو عدم استحکام سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ادھر یورپی یونین کی ترجمان نبیلہ مسرعلی نے اس ملاقات کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ بات چیت, ”تکنیکی سطح پر ایک غیر رسمی تبادلہ خیال ہے۔ بات چیت کا مطلب طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ملاقات کے دوران انسانی امداد کی فراہمی اور خواتین کے حقوق سمیت کئی دیگر اہم امور  بات چیت ہو گی۔

 اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کے نمائندوں سے ہونے والی اس بات چیت میں امریکی سفیر کے بھی موجود ہونے کی توقع ہے۔یورپی یونین کے نمائندوں سے ہونے والی اس بات چیت سے ایک روز قبل یعنی 11 اکتوبر پیر کو دوحہ میں ہی جرمن وفد نے طالبان سے ملاقات کی تھی۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے یہ جرمنی اور طالبان میں پہلی گفت و شنید تھی۔

اس میٹنگ میں جو جرمن حکام موجود تھے اس میں افغانستان اور پاکستان کے لیے جرمنی کے خصوصی سفیر جسپیر ویک اور مارکس پوزیل بھیشامل تھے۔ ملاقات کے بعد, جرمن وفد نے کہا کہ طالبان حکومت ایک ”حقیقت” ہے۔ امریکہ اور نیٹو کے اتحادیوں نے بیس برس بعد افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لی تھیں اور اسی دوران طالبان نے 15 اگست کو افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔

 دوحہ میں اس ملاقات کے حوالے سے جرمن دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ وفد نے, ”جرمن اور افغان شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی جس کی جرمنی پر ایک خاص ذمہ داری ہے۔” اس کے ساتھ ہی بات چیت میں, ”انسانی اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کے احترام” اور سیکورٹی سے متعلق امور توجہ دی گئی۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.