سابق افغان صدر اشرف غنی کی عوام سے معذرت خواہی

اشرف غنی نے ٹویٹر پر شیئر کئے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 15 اگست کو شہر میں طالبان کے اچانک داخلہ کے بعد جلد بازی میں کابل چھوڑ نے پر افغان عوام کو وضاحت پیش کرنا میرا فرض ہے۔

دبئی: سابق افغان صدر اشرف غنی نے جو گذشتہ ماہ ا قتدار پر طالبان کے قبضہ کے بعد یو اے ای فرار ہوگئے تھے، آج اچانک ملک چھوڑ جانے پر عوام سے معذرت خواہی کی ہے۔

کہا ہے کہ اُن کا یہ ماننا تھا کہ بندوقوں کو خاموش رکھنے، کابل اور اُس کے 6 ملین عوام کو محفوظ رکھنے کا یہی واحد طریقہ تھا۔

غنی نے اِن اطلاعات کی بھی تردید کی ہے کہ اُنہوں نے خزانے سے لئے گئے کئی ملین ڈالر کے ساتھ کابل چھوڑا تھا۔

اشرف غنی نے ٹویٹر پر شیئر کئے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 15 اگست کو شہر میں طالبان کے اچانک داخلہ کے بعد جلد بازی میں کابل چھوڑ نے پر افغان عوام کو وضاحت پیش کرنا میرا فرض ہے۔

میں نے محل کی سیکورٹی کی خواہش پر شہر چھوڑا تھا۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر میں یہیں مقیم رہوں تو 1990 کے دہے میں خانہ جنگی کے دوران شہر میں سڑکوں پر لڑائی کے جو خوفناک واقعات پیش آئے تھے اُن کا اعادہ ہوگا۔

72 سالہ سابق صدر نے کہاکہ کابل چھوڑنا میری زندگی کا مشکل ترین فیصلہ تھا لیکن میرا یہ ماننا تھا کہ بندوقوں کو خاموش رکھنے، کابل اور اُس کے 6 ملین شہریوں کو محفوظ رکھنے کا یہی واحد طریقہ تھا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.