سابق سرکاری عہدیدارملک واپس آجائیں:ملا محمد حسن آخند

ملا حسن نے عبوری کابینہ کے اعلان کے ایک دن بعد کہا کہ ہم نے افغانستان میں یہ تاریخی لمحہ دیکھنے ایک بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہم سابقہ حکومتوں کے عہدیداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک واپس لوٹ آئیں۔

پشاور/ کابل: افغانستان کے کارگزار وزیراعظم مُلّا محمد حسن آخند نے سابق حکومتوں کے عہدیداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک واپس لوٹ آئیں اور انہیں تیقن دیا کہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خونریزی کا دور ختم ہوچکا ہے اور اب انہیں جنگ سے تباہ شدہ ملک کی تعمیرنو کا عظیم مرحلہ درپیش ہے۔

 ملا حسن نے عبوری کابینہ کے اعلان کے ایک دن بعد کہا کہ ہم نے افغانستان میں یہ تاریخی لمحہ دیکھنے ایک بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہم سابقہ حکومتوں کے عہدیداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک واپس لوٹ آئیں۔ ہم ان کی زندگیوں کا مکمل تحفظ کریں گے۔ ہمیں جنگ سے تباہ شدہ افغانستان کی تعمیر نو کا عظیم مرحلہ درپیش ہے۔

طالبان کے ایک ترجمان کے حوالہ سے کہا کہ باغی گروپ کے سربراہ مُلّا ہبت اللہ اخوندزادہ نئی حکومت کی قیادت کریں گے۔ ترجمان نے عبوری حکومت میں ملاہبت اللہ کے عہدہ اور ریاستی امور میں ان کے رول کے بارے میں کوئی انکشاف نہیں کیا۔

یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگاکہ طالبان کی عبوری حکومت کے کم ازکم 14  ارکان‘ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی دہشت گردی کی بلیک لسٹ میں ہیں جن میں کارگزار وزیراعظم ملا حسن اور ان کے دونوں نائب شامل ہیں۔ خصوصی نامزد عالمی دہشت گرد سراج الدین حقانی جن کے سرپر 10ملین امریکی ڈالر کا انعام ہے‘ کارگزار وزیر داخلہ ہیں۔ 33 رکنی عبوری کابینہ میں 5کے منجملہ 4  ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں ”طالبان فائیو“ کے نام سے جانا جاتا ہے جو گوانتاناموبے کی جیل میں قید رہے ہیں۔ توقع ہے کہ افغان کابینہ کے ارکان 11 ستمبر کو حلف لیں گے جب 9/11 حملوں کے 20 سال مکمل ہوں گے۔

 بہرحال طالبان نے کہا ہے کہ یہ تاریخ قطعی نہیں ہے۔ اسی دوران سابق افغان وزیراعظم اورحزب ِ اسلامی کے قائد گلبدین حکمت یار نے طالبان کی زیرقیادت افغانستان کی عبوری حکومت کی غیرمشروط تائید کا اعلان کردیا ہے۔

(پی ٹی آئی)

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.