طالبان‘ خواتین سے متعلق وعدے پورے کریں:انٹونیو گٹریس

گٹریں نے کہا کہ 'میں طالبان سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں اور عالمی انسانی حقوق اور قوانین کی ادائیگی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ’۔

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیوگٹریسنے طالبان کی جانب سے افغان خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے وعدے‘توڑنے’کی مذمت کرتے ہوئے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کو معاشی بحران سے بجانے کے لیے مزید رقم عطیہ کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مذکورہ بیان طالبان کے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد امریکا اور گروپ کے درمیان پہلی روبرو ملاقات کے بعد سامنے آیا جس میں خواتین کے حقوق کا معاملہ اٹھایا گیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں خاص طور پر طالبان کی طرف سے افغان خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے وعدوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں طالبان سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں اور عالمی انسانی حقوق اور قوانین کی ادائیگی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ’۔ گٹریس نے کہا کہ اقوام متحدہ اس مسئلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور وہ یہ معاملہ طالبان کے ساتھ روز اٹھا رہی ہے، جو اگست کے وسط سے اقتدار میں ہیں لیکن عالمی سطح پر انہیں اب تک بطور جائز حکومت تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وعدے ٹوٹنے سے خواتین اور لڑکیوں کے خواب ٹوٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2001 سے 30 لاکھ لڑکیوں نے اسکول میں داخلہ لیا ہے اور ان کے لیے تعلیم کے اوسط سال 6 سے بڑھ کر 10 ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا کہ افغانستان کی 80 فیصد معیشت غیر رسمی ہے جس میں خواتین کا اہم کردار ہے اور ان کے بغیر افغان معیشت اور معاشرے کو بحال کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

انٹونیوگٹریس نے افغانستان کی معیشت کو درپیش مسائل کے بارے میں بھی تفصیلی بات کی، بیرون ممالک میں موجود افغانستان کے اثاثے منجمد ہیں جبکہ ترقیاتی امداد بھی معطل کی جاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ راستہ تلاش کرنا ہوگا جس کے ذریعے معیشت دوبارہ سانس لے سکے، یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی یا اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر ہو سکتا ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.