عالمی سطح پر آبی بحران کیخلاف اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے 2050 میں 5 ارب سے زائد لوگوں کو پانی تک رسائی حاصل کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے اور رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ 'سی او پی 26' سربراہی اجلاس میں آبی وسائل سے متعلق اقدام اٹھائیں۔

جنیوا: عالمی موسمیاتی تنظیم نے انتباہ دیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے پانی سے مربوط خطرات کاعالمی سطح پر اضافہ ہوگا جس میں سیلاب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ امکان ہے کہ آبی قلت کے شکار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اپنے نئی رپورٹ جس کا عنوان ”ماحولیاتی خدمات 2021“ کی حالت اور پانی ہے اس میں تنظیم نے آج بتایا کہ 3.6 بلین افراد سار ی دنیا میں 2018میں کم ازکم ایک ماہ سالانہ پانی حاصل نہیں کرسکے تھے۔ 2050 تک توقع ہے کہ ان کی تعداد 5بلین تک پہنچ جائے گی۔

ژنہوا نیوز ایجنسی رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی۔ بتایاگیا ہے کہ صورتحال بگڑ رہی ہے جبکہ 0.5 فیصد کرہ ارض کا پانی قابل استعمال ہے اور اتنا ہی تازہ صاف پانی بھی دستیاب ہے۔ اس کے اعداد و شمار میں بتایاگیا ہے کہ گذشتہ 20 برسوں کے دوران پانی سے پیدا ہونے والے خطرات میں بار بار اضافہ ہوتارہاہے۔ سال 2000ء سے سیلاب  جیسے حادثات میں گذشتہ دو دہوں کے مقابلہ میں 134 فیصد اضافہ ہواہے اور اسی مدت میں خشک سالی کے دور میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خشک سالی افریقہ میں اموات ہوئی ہیں جس سے اس علاقہ میں ایک طاقتور انتباہی نظام کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے 2050 میں 5 ارب سے زائد لوگوں کو پانی تک رسائی حاصل کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے اور رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ‘سی او پی 26’ سربراہی اجلاس میں آبی وسائل سے متعلق اقدام اٹھائیں۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018 میں پہلے ہی 3 ارب 60 لاکھ افراد کو سالانہ کم از کم ایک ماہ تک پانی کی ناکافی رسائی حاصل تھی۔ڈبلیو ایم او کے سربراہ پیٹیری تالاس نے کہا کہ ہمیں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔’دی اسٹیٹ آف کلائمیٹ سروسز 2021: واٹر‘ رپورٹ ‘سی او پی 26’ سربراہی اجلاس سے چند ہفتے پہلے سامنے آئی ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک گلاسگو میں منعقد ہو رہی ہے۔ڈبلیو ایم او نے زور دیا کہ گزشتہ 20 برس کے دوران زمین پر ذخیرہ شدہ پانی کی سطح ہر سال ایک سینٹی میٹر کی شرح سے گر رہی ہے۔ادارے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ میں ہو رہا ہے اور ساتھ ہی ان زیادہ آبادی والے علاقوں کو خطرہ ہے جو روایتی طور پر پانی فراہم کرتے ہیں۔

ایجنسی نے کہا کہ پانی کی حفاظت کے لیے غیر تسلی بخش اقدامات ہیں کیونکہ زمین پر صرف 0.5 فیصد پانی قابل استعمال ہے اور تازہ پانی دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے نتیجے میں عالمی اور علاقائی بارشیں تبدیل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بارش کے نمونوں اور زرعی موسموں میں تبدیلی آتی ہے جس سے خوراک کا بحران اور انسانی صحت اور فلاح و بہبود پر برا اثر پڑتا ہے۔پیٹیری تالاس نے کہا کہ 2000 کے بعد سے سیلاب سے آفات میں گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں 134 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.