غیر منصفانہ سفری پابندی فوری ہٹائی جائے: افریقی صدر راما فوسا

افریقی صدر نے کہاکہ اس سے پہلے کہ ہماری معیشت کو مزید نقصان پہنچے، سفر پر پابندی کا اپنا فیصلہ فوری طور پر واپس لے لیں۔اُنہوں نے کہا کہ اومیکرون ویریئنٹ کا ابھرنا ہم سب کیلئے ایک اشارہ ہے کہ ہمیں اب ویکسینیشن کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

پریٹوریا: اومیکرون، کورونا کی وبا کا ایک نیا خطرناک قسم فی الحال پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ جنوبی افریقہ میں اس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد دنیا کے تمام ممالک اس کے انفیکشن کو روکنے کے لیے سفر پر پابندی لگا رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے اسے "غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے اس پابندی کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر نے اتوار کو کہا کہ ’یہ پابندی پہلے سے متاثرہ ممالک کی معیشت کو مزید کمزور کرنے کا باعث بنے گی اور پھر اس سے نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ سفری پابندی کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے اور جنوبی افریقہ ماضی میں اس طرح کے غیر منصفانہ امتیاز کا شکار رہا ہے۔

انہوں نے اپیل کی، "اس سے پہلے کہ ہماری معیشت کو مزید نقصان پہنچے، سفر پر پابندی کا اپنا فیصلہ فوری طور پر واپس لے لیں۔ ‘‘صدر نے کہا کہ اومیکرون ویریئنٹ کا ابھرنا ہم سب کے لیے ایک اشارہ ہے کہ ہمیں اب ویکسینیشن کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ جاپان بھی پیر کے روز سفر پر پابندی لگانے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ جاپان 30 نومبر سے تمام ممالک کے غیر ملکیوں کے لیے اپنی سرحدیں بند کر رہا ہے۔

جن ممالک نے جنوبی افریقی ممالک پر پابندی عائد کی ہے ان میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اسکاٹ لینڈ، اٹلی، اسرائیل، فلپائن، جرمنی، سنگاپور، ملائیشیا، برازیل اور سعودی عرب شامل ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جمعہ کے روز اومیکرون وائرس، جس کی شناخت بی .1.1.529 کے نام سے کی گئی ہے، کو تشویشناک قرار دیا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.