آنگ سان سوچی کو 4 سال جیل

یکم فروری کو اقتدار پر فوج کے قبضہ کے بعد سے 76 سالہ نوبل انعام یافتہ سوچی کے خلاف کئی کیسس چل رہے ہیں۔ یہ پہلا کیس ہے جس میں انہیں سزا ہوئی ہے۔ دوسرے کیس کا فیصلہ آئندہ ہفتہ متوقع ہے۔

بنیگکاک: میانمار کے دارالحکومت کی ایک عدالت نے برطرف قائد آنگ سان سوچی کو پیر کے دن 4 سال جیل کی سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں‘ اُکسانے اور کورونا وائرس تحدیدات کی خلاف ورزی کا خاطی پایا۔

یکم فروری کو اقتدار پر فوج کے قبضہ کے بعد سے 76 سالہ نوبل انعام یافتہ سوچی کے خلاف کئی کیسس چل رہے ہیں۔ یہ پہلا کیس ہے جس میں انہیں سزا ہوئی ہے۔ دوسرے کیس کا فیصلہ آئندہ ہفتہ متوقع ہے۔

تمام کیسس میں خاطی قرارپانے پر انہیں 100 سال جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔ عدالت نے آج یہ واضح نہیں کیا کہ آیا سوچی کو جیل بھیجا جائے گایا گھر پر نظربند رکھا جائے گا۔ جمہوریت کے لئے طویل جدوجہد میں وہ 1989 سے 15 سال گھر پر نظربند رہ چکی ہیں۔ اُکسانے کا کیس‘ سوچی کی پارٹی کے فیس بک پیج پر پوسٹ بیانات سے تعلق رکھتا ہے۔

گزشتہ برس نومبر میں الیکشن سے قبل انہوں نے انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا جس پر ان کے خلاف کورونا وائرس تحدیدات کی خلاف ورزی کا معاملہ درج ہوا تھا۔الیکشن میں سوچی کی پارٹی نے زبردست جیت حاصل کی تھی لیکن فوج نے اس پر بڑے پیمانہ پر دھاندلیوں کا الزام عائد کیا تھا۔

فوج نے جس پارٹی کا ساتھ دیا تھا وہ کئی نشستیں ہار گئی تھی۔ عدالت کے آج کے فیصلہ کی تفصیلات کا علم نہ ہوسکا۔ خصوصی عدالتیں‘ انگریزوں کے دور کی دین ہیں۔ ان میں بیشتر کو سیاسی کیسس کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.