افغانستان، اقتصادی تباہی کے دہانہ پر کھڑا ہے: شاہ محمود قریشی

محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان اقتصادی تباہی کے دہانہ پر کھڑا ہے اور بین الاقوامی برادری کے لئے افغان عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت‘ تعلیم اور بلدی خدمات پر بھی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد: پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طالبان کی اسلامی امارات افغانستان (آئی ای اے) حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رہنی چاہئے تاکہ امن و استحکام کو مضبوط کرنے میں مدد کی جاسکے۔ افغانستان کے بحران پر جمعرات کو اسلام آباد میں ٹرائیکا پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قریشی نے کہا کہ فی الحال 4 ممالک کا گروپ امریکہ‘ چین‘ روس اور پاکستان زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا ہے اور اسے اہم رول ادا کرنا ہے۔

 ان کے مطابق ٹرائیکا پلس پراعتماد ہے کہ آئی ای اے حکومت کے ساتھ ان کی بات چیت امن و استحکام کو مضبوط بنانے‘ پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے علاوہ افغانستان میں سرگرم دہشت پسند گروپس کے لئے زمین تنگ کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی دوبارہ خانہ جنگی دیکھنا نہیں چاہتا۔کوئی بھی اقتصادی تباہی نہیں چاہتا جس سے عدم استحکام پیدا ہو۔ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے اندر سرگرم دہشت گرد عناصر سے موثر طورپر نمٹا جائے اور ہم سب ایک نئے پناہ گزیں بحران کی روک تھام چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام علاقائی ممالک تشویش کا شکار ہیں اور ملک کے امن و استحکام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اقتصادی تباہی کے دہانہ پر کھڑا ہے اور بین الاقوامی برادری کے لئے افغان عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت‘ تعلیم اور بلدی خدمات پر بھی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ گروپ نے قبل ازیں اگست میں قطر میں ملاقات کی تھی تاکہ افغانستان پر آئی ای اے کے اقتدار کے دوران تصادم کا سیاسی حل تلاش کیا جاسکے۔

علیحدہ اطلاع کے بموجب شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کو فوری امداد فراہم نہ کی گئی تو طالبان کی نئی حکومت کی ملک کو چلانے کی استعداد نہایت محدود ہوجائے گی جبکہ ملک میں قحط کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ٹرائیکا پلس اجلاس میں امریکہ‘ چین اور روس کے مندوبین کے علاوہ امریکہ کے نمائندہ ئ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ نے بھی شرکت کی۔وزیر خارجہ قریشی نے افغانستان کے منجمد اثاثوں تک افغانستان کو رسائی دینے پر بھی زور دیا تاکہ اس ملک میں معاشی اور اقتصادی سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.