افغانستان میں خسرہ کی وباء 87 اموات، مزید اضافہ ممکن

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیریس نے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ جاریہ سال خسرہ کی وجہ سے کم از کم 87 بچے فوت ہوچکے ہیں۔

نئی دہلی: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ افغانستان میں خسرہ کی وباء پھوٹ پڑی ہے جس میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہاہے۔ ویکسین کے فقدان کے سبب یہ وبا دن بدن بدترین ہوتی جارہی ہے۔ طلوع نیوز نے یہ اطلاع دی۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیریس نے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ جاریہ سال خسرہ کی وجہ سے کم از کم 87 بچے فوت ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نقص تغذیہ کے شکار بچوں کے لیے خسرہ سزائے موت کے مماثل ہے۔ انہوں نے ملک میں خسرہ کا شکار افراد کاپتہ چلانے کیلئے معائنوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کافی نظر رکھنے کے باوجود یہ وبا پھیل رہی ہے۔

افسوسناک طور پر 87 اموات ہوئی ہیں۔ اگر ہم تیزی سے پیشرفت نہ کریں تو مزید اموات واقع ہوسکتی ہیں۔ کابل میں واقع اندراگاندھی چلڈرنس ہاسپٹل کے عہدیداروں نے بتایا کہ اگر ڈبلیو ایچ او جلد از جلد ویکسین فراہم نہ کرسکے تو خسرہ سے اموات میں اضافہ ہوسکتاہے۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ وباء دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور اگر ڈبلیو ایچ او ویکسین فوری فراہم نہ کرسکے تو اموات دن بدن بڑھتی جائیں گی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ خسرہ انتہائی متعدی بیماری ہے جو ایک تا5 سال کی عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ صرف ٹیکہ سے اس بیماری کی روک تھام ممکن ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.