افغانستان میں خواتین کی جبری شادیوں پر امتناع

کوئی بھی کسی خاتون کو شادی کے لئے مجبور نہیں کرسکتا۔ غریب ملک میں جبری شادیاں عام ہوچکی ہیں۔ طالبان کے فرمان میں شادی کی اقل ترین عمر کا ذکر نہیں کیا گیا جو سابق میں 16 سال طئے ہوئی تھی۔

کابل: طالبان نے جمعہ کے دن کہا کہ وہ جنگ زدہ ملک میں خواتین کی جبری شادیوں پر امتناع عائد کررہے ہیں۔ ان کا یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کی اس شرط کو پوری کرنے کی پہل دکھائی دیتا ہے جو انہوں نے ان کی حکومت کو تسلیم کرنے اور افغانستان کی مالی امدادبحال کرنے کے لئے رکھی ہے۔ سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے یہ اعلان ایسے وقت کیا جب افغانستان میں غربت بڑھتی جارہی ہے۔ طالبان کے فرمان میں کہا گیا کہ مردوزن دونوں مساوی ہونے چاہئیں۔

 کوئی بھی کسی خاتون کو شادی کے لئے مجبور نہیں کرسکتا۔ غریب ملک میں جبری شادیاں عام ہوچکی ہیں۔ طالبان کے فرمان میں شادی کی اقل ترین عمر کا ذکر نہیں کیا گیا جو سابق میں 16 سال طئے ہوئی تھی۔ افغانستان میں کئی دہوں سے عورتوں کے ساتھ جائیداد جیسا معاملہ کیا گیا۔طالبان قیادت کا کہنا ہے کہ وہ افغان عدالتوں کو ہدایت دی چکی ہے کہ خواتین کے ساتھ منصفانہ برتاؤ ہو۔ افغانستان میں ابھی بھی ساتویں تا بارہویں جماعت کی ہزاروں طالبات کو اسکول جانے کی اجازت نہیں۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.