افغانستان میں داڑھی بنانا ممنوع

طالبان کی مذہبی پولیس نے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔

نئی دہلی: طالبان نے افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ہیر ڈریسرس / حجاموں پر پابندی عائد کردی کہ وہ کسی کی بھی شیونگ یا ٹرمنگ نہ کریں یعنی داڑھی نہ بنائیں کیونکہ اس سے طالبان کے شرعی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ بی بی سی نے یہ اطلاع دی۔

طالبان کی مذہبی پولیس نے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔ دارالحکومت کابل کے بعض حجاموں نے کہا کہ انہیں بھی ایسے ہی احکام ملے ہیں۔

یہ ہدایات طالبان کے پچھلے دورِ حکومت جیسی ہیں حالانکہ انہوں نے صرف نرم حکومت کا وعدہ کیا ہے۔

صوبہ ہلمند کے سیلونس میں لگی نوٹس میں طالبان عہدیداروں نے خبردار کیا کہ زلف تراش‘ بال تراشنے اور داڑھی بنانے کے معاملہ میں شرعی قانون پر عمل کریں۔ نوٹس میں کہا گیا کہ کسی کو بھی شکایت کا حق نہیں۔

کابل کے ایک حجام نے بتایا کہ طالبان لڑاکے آتے رہتے ہیں اور ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم داڑھی بنانا بند کردیں۔ ہم سے کہا گیا ہے کہ وہ (طالبان) اپنے انسپکٹرس کو گاہک کے بھیس میں بھیجیں گے اور خلاف ورزی پر ہمیں پکڑلیں گے۔

ایک اور ہیر ڈریسر نے جو شہر کا سب سے بڑا سیلون چلاتا ہے‘ کہا کہ اسے بھی کسی کا فون آیا ہے۔ فون کرنے والے نے خود کو سرکاری عہدیدار بتایا۔ اس نے ہدایت دی کہ امریکن اسٹائل چھوڑدو‘ کسی کی بھی داڑھی مت بناؤ۔ طالبان کے پہلے دور 1996 تا 2001 میں جدید ہیر اسٹائیل ممنوع تھے۔

مردوں سے کہا گیا تھا کہ وہ داڑھی پالیں۔ طالبان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد سے کلین شیو عام ہوگیا تھا۔ کئی افغان‘فیشن ایبل کٹ کے لئے سیلون جانے لگے تھے۔ حجاموں کا کہنا ہے کہ نئے احکام سے ان کا جینا محال ہوجائے گا۔

ہرات کے ایک باربر نے کہا کہ اسے سرکاری حکم نامہ نہیں ملا ہے لیکن اس نے داڑھی بنانا بند کردیا ہے۔ ہیر کٹنگ چارجس گھٹانے کے باوجود اس کا کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.