افغانستان میں عنقریب یونیورسٹیز کی کشادگی، لڑکے اور لڑکیوں کی جماعتیں علیحدہ ہوں گی

ٹولو نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ طالبان کے 2021 میں افغانستان میں برسراقتدار آنے کے بعد یونیورسٹیز بدستور بند ہیں۔

کابل: طالبان زیر قیادت حکومت ملک بھر میں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لئے جلد یونیورسٹیز دوبارہ کھولے گی۔ مگر لڑکے اور لڑکیوں کے لئے جماعتیں علحدہ ہوں گی۔ ایک وزیر نے یہاں یہ بات کہی۔

ٹولو نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ طالبان کے 2021 میں افغانستان میں برسراقتدار آنے کے بعد یونیورسٹیز بدستور بند ہیں۔

وزیر اعلیٰ تعلیم عبدالباقی حقانی نے چہارشنبہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ ریمارک کئے تاہم انھوں نے یونیورسٹیز کے دوبارہ کھولنے کی ٹھیک تاریخ نہیں دی۔

وزیر نے یونیورسٹیز کے دوبارہ کھولنے میں تاخیر کے لئے رواں معاشی بحران اور لڑکے و لڑکیوں کے لئے علحدہ جماعتوں کے نہ ہونے کو مواد الزام ٹھرایا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبان ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی قائم کریں گے جس میں شرعیہ میڈیکل‘ اگریکلچر اور انجینئرنگ پروگرام شامل ہوں گے۔ ان چار زمروں میں ماسٹرس اور پی ایچ ڈی ڈگریوں کی پیشکش کی جائے گی۔

حقانی کے بموجب چند علاقائی ممالک نے افغان طلبا کے لئے تعلیمی اسکالرشپس مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ٹولو نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ چند یونیورسٹی طلباء نے کہا کہ وہ یونیورسٹی بند کئے جانے کے گذشتہ 6 ماہ سے غیر یقینی صورتحال سے گذار رہے ہیں۔

ایک طالب علم متی اللہ پیروزی نے کہا کہ یہ چھ ماہ ایک طویل وقفہ تھے اور یہ طلباء کا جذبہ متاثر کریں گے۔ دوسرے طالب علم محمد ہلال نے کہا کہ ہمیں حیرت ہے کہ انہوں نے گذشتہ 6 ماہ کے دوران ایک اسکیم بنا نہیں سکے۔ اسکیم آسانی کے ساتھ بنائی ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.