افغانستان کے مدرسوں میں تلاوت قرآن مجید سے تعلیمی دور کاآغاز

طالبان کی حکومت میں تعلیمی امور کے تعلق سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ لڑکیوں اور لڑکوں کیلئے تدریس کے علٰحدہ انتظامات کئے جارہے ہیں۔

کابل: افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے نظام حکومت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم اور شرعی امور پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ افغانستان کے صدر کابل مقام کے دور دراز کے مقام پر واقع ایک اسکول میں بچے صبح کی اولین ساعتوں میں بیدار ہوجاتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت سے دیگر کاموں کی شروعات کرتے ہیں۔

نوجوان لڑکے، ٹیچر، استاد کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اور مقدس کتاب پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ مدرسوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور طلباء کو اسلامی امور پر عمل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں اسلامی قوانین پر عمل آوری کیلئے مؤثر اقدامات کئے جارہے ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے کہ اسلامی قوانین اور تعلیمات پر مؤثر عمل آوری کی جائے گی۔مدرسہ کے طلباء صبح 4:30بجے بیدار ہوجاتے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت شروع کردیتے ہیں۔طالبان کی حکومت میں تعلیمی امور کے تعلق سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ لڑکیوں اور لڑکوں کیلئے تدریس کے علٰحدہ انتظامات کئے جارہے ہیں۔

مدرسوں،اسلامی مذہبی اسکولوں اور دوسرے اداروں میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس کے علاوہ تعلیمی نظام کو اسلامی قوانین کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جارہاہے تاکہ تمام اداروں میں اسلامی امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقدامات کئے جاسکے۔اس طرح افغانستان کے مدرسوں میں ایک دور کا آغاز ہورہاہے۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.