امریکہ پر حملہ کیلئے نیوکلیئر میزائل تیار: کم جانگ اُن

کم جونگ اْن نے کہا, ”ہم کسی کے ساتھ جنگ کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم خود کو جنگ سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی قومی خود مختاری کے لیے جنگ کے تدارک میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔"

سیول: شمالی کوریاء کے قائد کم جانگ اُن نے امریکہ پر حملہ کیلئے تیار کردہ نیوکلیر میزائل کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ مسلسل امریکی معاندانہ رویہ کی وجہ سے اس سے نمٹنے ناقابل تسخیر فوج تیار کریں گے۔ بظاہر واشنگٹن اور سیول کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لیے کم نے پیر کو اسلحہ کی غیر معمولی نمائش میں تقریر کی تاکہ اس بات پر زور دیا جائے کہ جنوبی کوریا میں اس کی فوجی طاقت کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا‘لہذا ایک اورایسی جنگ نہیں ہونی چاہئے جس سے کوریائی عوام ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

 کوریا کی سرکاری سنٹرل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ امریکہ نے اکثر اس بات کااظہار کیا کہ وہ شمالی کوریا کیلئے معاندانہ رویہ نہیں رکھتاہے لیکن عملی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین دلایا جائے کہ وہ ہمارے خلاف معاندانہ رویہ نہیں رکھتا۔ امریکہ اپنے غلط فیصلوں اور اقدامات سے اس علاقہ میں کشیدگی پیدا کررہا ہے۔ جزیرہ نما کوریا میں امریکہ کو عدم استحکام کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کم نے بتایا کہ ان کے ملک کا سب سے اہم مقصد ناقابل تسخیر فوجی صلاحیت پیدا کرناہے جسے کوئی بھی چیالنج کرنے کی جرات نہ کرسکے۔

یواین آئی کے بموجب شمالی کوریا کے سربراہ کِم جانگ اْن نے خطے میں تمام تر تناو کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دے دیا ہے۔ دفاع سے متعلق افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران شمالی کوریا کے آمر حکمراں کم جونگ ان نے جنوبی کوریا پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کی فوجی توازن بگاڑنے کی کوششیں خطے کیلیے خطرے کا باعث ہیں۔

خیال رہے گزشتہ دنوں شمالی کوریا نے اقوام متحدہ اور دنیا کو نظر اندزا کرتے ہوئے انتہائی خطرناک قسم کے کچھ بیلسٹک میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا تھا، جس کے بعد سے اس کے پڑوسیوں اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن نے امریکہ کو مخاصمانہ پالیسیوں کیلئے مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اپنی قومی خود مختاری کی حفاظت کے لیے فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

کم جونگ اْن نے جزیرہ نما کوریا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکہ کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں کہ واشنگٹن کا پیانگ یانگ کے تئیں ”مخاصمانہ” رویے کے سوا کوئی دوسری اپروچ ہے۔شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں ایک ہائپر سونِک میزائل کے تجربے کی خبروں کے درمیان پیانگ یانگ میں منعقدہ ایک دفاعی نمائش کے دوران کم جونگ اْن نے کہا, ”ہم کسی کے ساتھ جنگ کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم خود کو جنگ سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی قومی خود مختاری کے لیے جنگ کے تدارک میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔”

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.