انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹ پڑا، 13 افراد ہلاک

آتش فشاں پھٹنے کے دوران نکلنے والے لاوے اور دھویں سے 13افراد ہلاک جبکہ 90 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آتش فشاں پھٹنے کے بعد نکلنے والا دھواں 40 ہزار فٹ کی بلندی تک گیا۔

جکارتہ: انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے سیمیرو آتش فشاں میں دھماکے سے کم از کم 13 افراد ہلاک اور 98 دیگر زخمی ہو گئے ہیں کئی گھر، سڑکیں اور پل راکھ میں تبدیل ہو چکے ہیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی (بی این پی بی) نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ آتش فشاں ہفتہ کی سہ پہر 3:10 (مقامی وقت) پر پھٹا۔ بی این پی بی کے ترجمان عبدالمہری کے مطابق دو نعشوں کی شناخت کر لی گئی ہے جب کہ دیگر نعشوں کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ زخمیوں میں دو حاملہ خواتین بھی شامل ہیں، جو قریبی ہیلتھ سنٹر میں زیر علاج ہیں۔

اس دوران 902 افراد کو گاؤں کے ایک ہال، ایک اسکول اور ایک مذہبی مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی ادارے کے مطابق آتش فشاں پھٹنے  کے دوران نکلنے والے لاوے اور دھویں سے 13افراد ہلاک جبکہ 90 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آتش فشاں پھٹنے کے بعد نکلنے والا دھواں 40 ہزار فٹ کی بلندی تک گیا۔دوسری جانب آتش فشاں پھٹنے کے باعث ہزاروں افراد کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیاہے۔عینی شاہدین کے مطابق نواحی گاؤں ملبے کی زد میں آئے، اور دھویں کی وجہ سے سورج چھپ گیا اور ہر سو اندھیرا چھا گیا۔ مقامی وقت کے مطابق آتش فشاں دوپہر کے ڈھائی بجے پھٹا۔ حکام نے تین میل کے دائرہ کو ممنوعہ علاقہ قرار دے دیا ہے۔

ایک مقامی عہدیدار طارق الحق نے رائٹر خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ قریبی شہر مالنگ کو جانے والی سڑک اور پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔آسٹریلیا کے ڈاروِن خطے میں واقع والکینک ایش ایڈوائزری سینٹر یا وی اے اے سی کا کہنا ہے کہ راکھ کا بادل پہاڑ کی چوٹی سے الگ ہو کر جنوب مغرب میں بحرِ ہند کی طرف بڑھا رہا ہے۔وی اے اے سی سے وابستہ ماہر موسمیات کیمبل بِگس نے بی بی سی کو بتایا کہ 15,000 میٹر کی بلندی تک پہنچنے والا راکھ کا بادل اس بلندی سے کہیں اوپر ہے جس پر عام ہوائی جہاز سفر کرتے ہیں اس لیے کئی علاقے میں اْڑنے والے کئی جہازوں کو اپنا راستہ بدلنا ہوگا۔

جہازوں کے انجن کے ٹھنڈے حصوں پر بیٹھنے والی راکھ جم کر سخت ہو جاتی ہے اور انجن کی کارکردگی کو بری طرح سے متاثر کر سکتی ہے۔اس کے علاوہ پائلٹ کو دیکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے اور ہوا کا معیار خراب ہونے کی وجہ سے مسافروں کے لیے آکسیجن ماسک کی فراہمی کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔بِگس کا کہنا ہے کہ ’ماؤنٹ سمیرو پر واقع آتش آفشاں خاصا سرگرم ہے اور 4300 میٹر کی بلندی تک باقاعدگی سے راکھ اگلتا رہا ہے، اس لیے ہفتہ کو ہونے والی سرگرمی نہایت زور دار تھی۔

‘انھوں نے کہا کہ راکھ کا یہ بادل رفتہ رفتہ فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ماؤنٹ سمیرو سطح سمندر سے 3676 میٹر بلند ہے اور گذشتہ دسمبر میں اس کے پھٹنے کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب بھاگنا پڑا تھا۔یہ انڈونیشیا کے 130 زندہ آتش فشاں پہاڑوں میں سے ایک ہے۔انڈونیشیا بحر الکاہل کے ’رِنگ آف فائر‘ یا حلق آتشیں پر واقع ہے جہاں براعظم آپس میں ٹکراتے ہیں جس سے آتش فشاں اور زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.