ایک دوسرے پر حملے نہ کرنے طالبان۔ شمالی اتحاد کا معاہدہ

افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد وادی پنج شیر ہی ایک ایسا علاقہ تھا جہاں ان کی سخت مخالفت کی جارہی تھی۔ مخالف طالبان ملیشیا لڑاکوں اور سابق افغان سیکوریٹی فورسس پر مشتمل شمالی اتحاد نے طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے کا عہد کیا تھا۔

کابل: طالبان اور شمالی اتحاد نے آج ایک دوسرے پر حملے نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا۔ جیو نیوز نے یہ اطلاع دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف حملے نہ کرنے سے اتفاق کرلیا ہے۔

گزشتہ 2 روز سے افغانستان کے صوبہ پروان میں طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان بات چیت جاری تھی۔

افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد وادی پنج شیر ہی ایک ایسا علاقہ تھا جہاں ان کی سخت مخالفت کی جارہی تھی۔ مخالف طالبان ملیشیا لڑاکوں اور سابق افغان سیکوریٹی فورسس پر مشتمل شمالی اتحاد نے طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے کا عہد کیا تھا۔

فریقین نے اب کہا ہے کہ وہ باہمی تعطل کو بات چیت سے دور کرنے کے خواہاں ہیں۔ پنج شیر‘ ہندوکش پہاڑوں کے درمیان ایک گہری وادی ہے جس کا جنوبی سرا کابل سے تقریباً 80 کیلو میٹر شمال میں واقع ہے۔

اس وادی میں داخل ہونے کے بہت ہی محدود راستے ہیں اور اس کے جغرافیائی محل وقوع سے اسے قدرتی طورپر فوجی برتری حاصل ہے۔

مزاحمتی یونٹس‘حملہ آور افواج کو بلند مقامات سے موثر طورپر نشانہ بناسکتے ہیں۔

افغانستان میں اس کی کافی علامتی قدر بھی ہے کیونکہ زائداز ایک صدی سے اس علاقہ میں حملہ آوروں کے قبضہ کے خلاف مزاحمت کی ہے۔

طالبان نے اس وادی کا محاصرہ کرنے اور خودسپردگی پر مجبور کرنے اپنے سینکڑوں جنگجوؤں کو روانہ کیا ہے۔ اشتعال انگیزی کے باوجود طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ لوگ پرامن طورپر مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.