بنگلہ دیش میں ایک اور مندر میں توڑ پھوڑ کا واقعہ

کومیلا میں چہارشنبہ کے دن درگا پوجا پنڈال میں قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔ ہندو مندروں پر حملے ہوئے۔ حملوں کے سلسلہ میں کئی افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ بے چینی کے تازہ کیس میں ایک ہندو مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ میڈیا اطلاعات میں اتوار کے دن یہ بات بتائی گئی۔ ملک کے دارالحکومت  ڈھاکہ سے لگ بھگ 157کلومیٹر دور فینی میں ہفتہ کے دن تازہ جھڑپوں میں مندر اور ہندوؤں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ دکانوں کو لوٹ لیا گیا۔ اخبار ڈھاکہ ٹریبون نے یہ اطلاع دی۔

جھڑپوں میں کم از کم 40افراد بشمول آفیسر انچارج فینی ماڈل پولیس اسٹیشن نظام الدین زخمی ہوگئے۔ ہفتہ کی رات حکام نے مزید پولیس فورس اور نیم فوجی فورس بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جے بی کے دستے تعینات کردئیے۔ اسی دوران ملک کے شمال مشرقی بندرگاہی شہر چٹگانگ میں بنگلہ دیش ہندو بدھسٹ کرسچن یونیٹی کونسل نے اعلان کیا کہ درگا پوجا تقاریب کے دوران حملوں کیلئے 23اکتوبر کو دھرنا دیا جائے گا اور بھوک ہڑتال کی جائے گی۔

یواین آئی کے بموجب درگا پوجا تقاریب کے دوران ہندو مندروں‘ مورتیوں اور جائیدادوں پر حملوں کی مذمت میں ہفتہ کے دن بنگلہ دیش بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے خاطیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چٹگانگ میں نصف دن کا دھرنا دیا۔ مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

سوشل میڈیا پر ایسے پوسٹس کی بھرمار ہے جن میں فرقہ وارانہ حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں نے مطالبہ کیا کہ نفرت کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ڈیلی اسٹار نے یہ اطلاع دی۔

کومیلا میں چہارشنبہ کے دن درگا پوجا پنڈال میں قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔ ہندو مندروں پر حملے ہوئے۔ حملوں کے سلسلہ میں کئی افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ بنگلہ دیش میں 10روزہ درگا پوجا تہوار جمعہ کے دن اختتام پذیر ہوا۔ 16کروڑ 40لاکھ آبادی والے ملک بنگلہ دیش میں 90فیصد مسلمان ہیں۔ ہندوؤں کی آبادی 8.4فیصد بتائی جاتی ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.