بنگلہ دیش میں قرآن مجید کی بے حرمتی کا واقعہ‘ ملک بھر میں تشدد

حکومت نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمیلہ میں پیش آئے و اقعہ کی تحقیقات کرے جہاں چہارشنبہ کے روز ایک پوجا منڈپ میں مبینہ قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی تھی۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے کمیلہ ٹاؤن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے ایک واقعہ کے بعد ملک میں کئی مقامات پر پرتشدد واقعات پیش آنے کی اطلاع ملی ہے۔ چہارشنبہ کے روزچاند پور کے اُپ ضلع حاجی گنج میں 3  افراد ہلاک اور دیگر کئی افراد پولیس کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہوگئے۔ تشدد کے بعد دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کی 2 پلاٹون تعینات کردی گئی ہیں۔

 کمیلہ‘ چٹوگرام‘ کوری گرام اور مولوی بازار سے بھی تشدد کی اطلاعات ملی ہیں۔ کئی واقعات میں مندروں اور مورتیوں کی توڑپھوڑ کی گئی اور مکانات پر حملہ کیا گیا۔ مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ضلع چٹوگرام کے 6  اُپ ضلعوں میں بھی بی جی بی تعینات کی گئی جہاں بنش کھلی اور کرناپلی اُپ ضلعوں میں کئی مندروں اور ہندوؤں کے مکانات پر حملے کئے گئے۔

کمیلہ میں کم ازکم 50  افراد زخمی ہوگئے جبکہ مقامی میڈیا نے 60  افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے جن میں صحافی اور عام افراد بھی شامل ہیں۔ حاجی گنج علاقہ میں ہجوم نے رات دیر گئے مندروں کو نشانہ بنایا۔ حکومت نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمیلہ میں پیش آئے و اقعہ کی تحقیقات کرے جہاں چہارشنبہ کے روز ایک پوجا منڈپ میں مبینہ قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی تھی۔

 بعدازاں کمیلہ میں کئی مندروں میں توڑپھوڑ کی گئی اور مکانات پر حملے کئے گئے۔ مقامی پولیس نے برادری کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقد کی ہے تاکہ امن و امان بحال کیا جاسکے۔ وزیر مذہبی امور محمد فرید الحق خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صبروتحمل سے کام لیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

 انہوں نے مذہبی بھائی چارہ اور امن و امان برقرار رکھنے کی بھی اپیل کی اور کہا کہ حکومت‘کمیلہ کی صورتِ حال پر قریبی نظر رکھ رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کو تحقیقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ ملک میں مذہبی بھائی چارہ کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی شخص کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.