تحریک لبیک پاکستان کا اسلام آباد کی طرف مارچ جاری

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد پارٹی نے زبردست احتجاج کیا تھا اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کردینے اور اُس ملک سے اشیاء کی درآمدات بند کردینے کا مطالبہ کیا تھا۔

لاہور: پاکستان میں مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) کا اسلام آباد کی طرف مارچ جاری ہے جسے روکنے کے لئے جی ٹی روڈ پر مختلف مقامات پر جھڑپوں اور تصادم کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے معاملہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ حکومت کا اصرار ہے کہ ٹی ایل پی اپنا مارچ منسوخ کردے جبکہ مذہبی جماعت کا مطالبہ ہے کہ پہلے حکومت اپنے وعدے پورے کرے۔

ٹی ایل پی کا مطالبہ ہے کہ پیغمبر اسلامؐ  کے خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر کو فوری طورپر ملک بدر کیا جائے جبکہ تحریک کے امیر سعد رضوی کو بھی رہا کیا جائے۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ فرانسیسی سفیر کے اخراج کے مطالبہ کی تکمیل نہیں کرسکتی جس کے بعد تحریک لبیک پاکستان کے ارکان نے اپنی ریالی شروع کی تھی جو یہاں سے تقریباً 80 کیلو میٹر دور گجرانوالہ پہنچ گئی ہے۔ اس کے راستہ کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں عام زندگی درہم برہم ہے۔

 سل فون اور انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان لاہور لنک کو بھی جی ٹی روڈ سے مسدود کردیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب کے ایک عہدیدار نے آج پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس روٹ پر پولیس اور رینجرس کو تعینات کردیا گیا ہے لیکن چہارشنبہ کے برعکس پولیس اور رینجرس نے اعلیٰ عہدیداروں کے حکم پر ٹی ایل پی کارکنوں کو نہیں روکا۔

 حکومت کے اعلیٰ عہدیدار‘ ٹی ایل پی قیادت کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔ فی الحال حکومت نے چہارشنبہ کے خون ریز حملوں کے پیش نظر جس میں 4پولیس ملازمین اور اتنے ہی ٹی ایل پی کارکن ہلاک ہوئے تھے اور زائداز  400 زخمی ہوئے تھے‘ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائی ہے۔ پاکستان ریلویز نے بھی اعلان کیا ہے کہ لاہور‘ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان 3ٹرینوں کو آج معطل رکھا جائے گا۔

 حکومت نے اعلان کیا ہے کہ احتجاجیوں کو اسلام آباد پہنچنے نہیں دیا جائے گا جو ٹی ایل پی کی آخری منزل ہے جہاں وہ اس وقت تک دھرنا جاری رکھنا چاہتی ہے جب تک کہ حکومت اس کے مطالبات کو تسلیم نہ کرلے۔ حکومت پنجاب نے گزشتہ اپریل سے ٹی ایل پی کے بانی خادم رضوی مرحوم کے لڑکے سعد رضوی کو امن عامہ قانون کی برقراری کے تحت حراست میں رکھا ہے۔

 فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد پارٹی نے زبردست احتجاج کیا تھا اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کردینے اور اُس ملک سے اشیاء کی درآمدات بند کردینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹی ایل پی نے اتوار کے روز حکومت کو 2 دن کی مہلت دی تھی کہ وہ اس کے مطالبات کی تکمیل کرتے ہوئے پارٹی صدر کو رہا کرے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرے۔ جمعرات کے روز ایک زخمی پولیس ملازم جانبر نہ ہوسکا۔ مہلوکین کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے جن میں 11 ٹی ایل پی کارکن اور 8 پولیس ملازمین شامل ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.