داعش سے نمٹنے‘ امریکہ کی مدد نہیں لیں گے:طالبان

طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے امریکی نیوز ایجنسی اسوسی ایٹیڈ پریس(اے پی) سے کہا کہ افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ کی ذیلی تنظیم کے خلاف کارروائی میں واشنگٹن سے کوئی تعاون نہیں لیا جائے گا۔

اسلام آباد: طالبان نے ہفتہ کے دن افغانستان میں انتہاپسند گروپس کی روک تھام کے لئے امریکہ سے تعاون لینے سے انکار کردیا۔ اس طرح انہوں نے سابق دشمنوں کے درمیان پہلی بات چیت سے قبل ایک اہم مسئلہ پر اپنا موقف واضح کردیا کہ وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

 سینئر طالبان عہدیدار اور امریکی نمائندے آج اور کل خلیج فارس کے ملک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے امریکی نیوز ایجنسی اسوسی ایٹیڈ پریس(اے پی) سے کہا کہ افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ کی ذیلی تنظیم کے خلاف کارروائی میں واشنگٹن سے کوئی تعاون نہیں لیا جائے گا۔

 اسلامک اسٹیٹ نے کل شیعہ مسجد میں خودکش حملہ کے بشمول کئی حملوں کی ذمہ داری لی ہے۔ سہیل شاہین نے کہا کہ ہم داعش سے اپنے بل بوتے پر نمٹنے کے اہل ہیں۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا اسلامک اسٹیٹ کی ذیلی تنظیم کی روک تھام کے لئے طالبان‘ امریکہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اسلامک اسٹیٹ نے 2014 میں مشرقی افغانستان میں سر ابھارنے کے بعد سے ملک کے شیعہ مسلمانوں پر کئی حملے کئے ہیں۔

 اسلامک اسٹیٹ کو امریکہ کے لئے سب سے بڑے خطرہ کے طورپر بھی دیکھا جاتا ہے۔ دوحہ میں آج اور کل جو بات چیت ہونے والی ہے وہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد پہلی بات چیت ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ یہ بات چیت طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا پیش خیمہ نہیں ہے۔

 پاکستانی عہدیداروں اور امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن کے درمیان اسلام آباد میں 2 دن کی کٹھن بات چیت کے بعد دوحہ مذاکرات کا فیصلہ ہوا۔ پاکستانی عہدیداروں نے امریکہ سے خواہش کی کہ وہ افغانستان کے نئے حکمرانوں سے بات چیت کرے اور لاکھوں بلین ڈالر کے بین الاقوامی فنڈس جاری کردے تاکہ معاشی مندی دور ہو۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.