درگا پوجا تشدد کے بعد بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے20 گھر نذرآتش

وزیراعظم شیخ حسینہ نے تشدد میں ملوث خاطیوں کو کیفرکردارتک پہونچانے کاوعدہ کیا اورکہاکہ ہندومندروں اوردرگاپوجامقامات پر حملوں میں ملوث کسی بھی شخص کوبخشا نہیں جائے گا۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں گزشتہ ہفتہ درگاپوجاکے دوران مندروں میں توڑپھوڑکے واقعات کے خلاف ہندواقلیتی برادری کے مظاہروں کے درمیان سوشیل میڈیاپرتوہین مذہب کی ایک مبینہ پوسٹ پرتقریباً66مکانات پر توڑپھوڑکی گئی اورہندوؤں کے20 گھروں کو نذ رآتش کیاگیاہے۔ میڈیاکی اطلاعات میں یہ بات بتائی گئی۔

نیوز24 نے رپورٹ دی ہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ سے 255کلومیٹر دور موضع مانجھی پارامیں آتشزنی کے واقعات پیش آئے۔فیس بک پوسٹ پر اس گاؤں کے ایک ہندو نوجوان کی جانب سے توہین مذہب پر مبنی پوسٹ کی افواہ پرمچھیروں کی کالونی میں کشیدگی پھیل گئی جس کے بعد پولیس وہاں پہنچ گئی۔

فائرسرویس کنٹرول روم نے بتایاکہ جائے واقعہ سے ملنے والی رپورٹ سے نشاندہی ہوتی ہے کہ مانجھی پارامیں 29 مکانات‘دوکچن اور20گھاس کی گریوں کونذرآتش کردیاگیاہے۔یہ گھاس کی گریاں 15مختلف افراد کی ملکیت تھیں۔

قبل ازیں قرآن کی مبینہ بیحرمتی کے واقعہ پرکمیلا میں بڑے پیمانہ پرمندروں میں توڑپھوڑ اور آتشزنی کے واقعات پیش آئے تھے۔

وزیراعظم شیخ حسینہ نے تشدد میں ملوث خاطیوں کو کیفرکردارتک پہونچانے کاوعدہ کیا اورکہاکہ ہندومندروں اوردرگاپوجامقامات پر حملوں میں ملوث کسی بھی شخص کوبخشا نہیں جائے گا۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.