طالبان حکمرانی کے امور سے نمٹنے میں مصروف : عبداللہ عبداللہ

یہ دریافت کئے جانے پر کے وہ اشرف غنی کے ساتھ ملک چھوڑ کر کیوں نہیں گئے انہوں نے کہا کہ اگر میں غنی کے ساتھ راہ فرار اختیار کرتا میں بھی ایک قومی غدار کہلاتا۔


نئی دہلی: ملک کے سابق سرکردہ امن مذکرات کار عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ افغانستان کے طالبان حکمران اب حکمرانی کے امور کی دیکھ ریکھ کررہے ہیں اور یہ سیکھ رہے ہیں کہ یہ ایک مختلف بات ہے اور لڑائی سے متعلق ان کے سابقہ رول کے بالکل برخلاف ہے اور اگر عوام یہ نہیں دیکھیں گے کہ بہتری نہیں آئے گی موجودہ حکومت کو مزید چیلنجس کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان حکمرانی کے امور کی دیکھ ریکھ میں مصروف ہیں اس سے پہلے وہ حکومت کے خلاف لڑائی لڑ رہے تھے اب وہ یہ سیکھ رہے ہیں کہ یہ مختلف ہے۔

عبداللہ نے انڈیا ٹوڈے کانکلیو نے کابل سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام نے یہ نہیں دیکھا کہ بہتری آرہی ہے اس سے مزید چیلنجس پیدا ہوں گے اور ایک ایسی صورتحال پیدا ہوگی جہاں پر عوام ہفتوں میں نتائج چاہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ کہ طالبان نے 15 اگست کو اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے اقتدار سنبھال کر دو ماہ کا عرصہ ہوا ہے مسائل برقرار ہے اور عوام ان سے توقع رکھتے ہیں۔ افغانستان انسانیت اور معیشت کے بحران کا شکار ہے۔

غذا اور پانی کی قلت ہے لوگ خاندانوں کو کھلانے کیلئے اپنے ساز و سامان فروخت کررہے ہیں۔ فیکٹریوں اور دفاتر کو بند کردیا جارہا ہے کیونکہ تنخواہیں ادا کرنے کیلئے کوئی پیسہ نہیں ہے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کے وہ اشرف غنی کے ساتھ ملک چھوڑ کر کیوں نہیں گئے انہوں نے کہا کہ اگر میں غنی کے ساتھ راہ فرار اختیار کرتا میں بھی ایک قومی غدار کہلاتا۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.