طالبان کابینہ میں توسیع‘ایک بھی خاتون شامل نہیں

ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں داعش‘ القاعدہ یا کسی اور دہشت گرد گروپ کے وجود سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغان اثاثوں کو غیرمنجمد کرانے کے لئے تمام سفارتی کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشاں ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم بحال ہوجائے۔

کابل: طالبان نے منگل کے دن نائب وزرا کی فہرست جاری کی جس میں کسی بھی خاتون کا نام شامل نہیں ہے حالانکہ کابینہ میں خواتین کی نمائندگی نہ دینے پر دنیا میں بڑی چیخ و پکار مچی تھی۔ حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان دارالحکومت کابل میں نیوز کانفرنس میں نائب وزرا کا اعلان کیا۔

نائب وزرا کی فہرست بتاتی ہے کہ طالبان کو بین الاقوامی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ سبھی کو ساتھ لے کر چلنے اور عورتوں کے حقوق برقرار رکھنے کے ابتدائی وعدوں کے باوجود اپنا موقف سخت کرتے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کو ان کے قول نہیں بلکہ فعل کی بنیاد پر جانچا پرکھا جائے گا۔ طالبان حکومت کو تسلیم کرنا خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ ان کے سلوک سے جڑا ہوگا۔

طالبان نے لڑکیوں اور عورتوں کو اسکول اور دفتر جانے سے روک دیا ہے۔ طالبان نے اپنی حکومت کو عبوری کہا ہے جس میں تبدیلیاں ابھی بھی ممکن ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا ہے کہ الیکشن ہوگا۔ سوالات کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کابینہ میں توسیع کی مدافعت کی اور کہا کہ اس میں نسلی اقلیتوں جیسے ہزارہ کو جگہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بعد میں شامل کیا جائے گا۔

آئی اے این ایس کے بموجب ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کابینہ میں شامل نئے افراد پروفیشنل (ڈاکٹرس اور اعلیٰ تعلیم یافتہ) ہیں۔ اقلیتوں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ سینئر تاجر حاجی نورالدین عزیزی کو کارگزار وزیر تجارت اور قلندر عباد کو کارگزار وزیر صحت عامہ بنایا گیا ہے۔

 ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں داعش‘ القاعدہ یا کسی اور دہشت گرد گروپ کے وجود سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغان اثاثوں کو غیرمنجمد کرانے کے لئے تمام سفارتی کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشاں ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم بحال ہوجائے۔

 یواین آئی کے بموجب طالبان کی عبوری حکومت کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللّٰہ مجاہد نے کہا ہے کہ صحت، اعلیٰ تعلیم، اسکول، پولیس اورعدلیہ کے سیکٹر میں خواتین کی فوری ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ اداروں میں خواتین نے کام شروع کردیا ہے کچھ میں جلد کام شروع کر دیں گی۔

اپنے بیان میں ذبیح اللہ مجاہدنے کہا کہ گذشتہ حکومت میں وزارت خواتین امور صرف نام کی وزارت تھی، اسلام میں خواتین کے حقوق کے مطابق جدید ادارہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ خواتین کی رہ جانے والی تنخواہیں بھی ادا کی جائیں گی۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ طالبان نے خواتین کی وزارت کو وزارتِ اخلاقیات میں تبدیل کردیا ہے۔

ذریعہ
اے پی؍ یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.