طالبان کے اقتدار سے ایک نئی حقیقت قائم ہوگی: عمران خان

وزیراعظم خان نے کہا کہ ایک ”نئی حقیقت“ افغانستان میں قائم ہوئی ہے جب سے طالبان نے اقتدار سنبھالا ہے اور بیرونی افواج کی دستبرداری عمل میں آئی ہے اور یہ تمام کسی خون خرابہ کے بغیر ہوا ہے جو کہ ایک راحت کی بات ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو کہا کہ کابل میں طالبان اقتدار حاصل کرنے کے بعد افغانستان میں ایک نئی حقیقت ظاہر ہوئی ہے اور اب بین الاقوامی برادری اجتماعی مفاد یہ ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی جھگڑا نہ ہونے پائے اور جنگ زدہ ملک میں سکیوریٹی کی صورتحال کا احیاء کیا جائے۔

 20شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کونسل کے سربراہان مملکت (ایس سی او۔سی ایچ ایس) کے چوٹی اجلاس سے تاجکستان کے دارالحکومت دوشامبے میں خطاب کرتے ہوئے خان نے کہا کہ یہ بات اہم ہوگی کہ تمام افغانوں کے حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ دہشت گردوں کیلئے پھر کبھی محفوظ مقام نہ بننے پائے۔

 پاکستان جو افغانستان میں عدم استحکام سے متاثر رہا ہے اس کا مفاد اسی میں ہے کہ پر امن اور مستحکم افغانستان قائم ہو۔ ان کے حوالہ سے روزنامہ ڈان نے یہ بات بتائی۔ وزیراعظم خان نے کہا کہ ایک ”نئی حقیقت“ افغانستان میں قائم ہوئی ہے جب سے طالبان نے اقتدار سنبھالا ہے اور بیرونی افواج کی دستبرداری عمل میں آئی ہے اور یہ تمام کسی خون خرابہ کے بغیر ہوا ہے اور نہ ہی کوئی خانہ جنگی ہوئی اور بڑے پیمانہ پر پناہ گزینوں کا انخلاء ہوا ہے جو کہ ایک راحت کی بات ہے۔

 خان نے کہا کہ یہ مناسب ہوگا کہ افغانستان کو انسانی بنیادوں پر مدد کی جائے جن میں کوئی تاخیر نہ ہونے پائے کیونکہ یہ وقت افغانستانی عوام کے ساتھ ٹہرنے کا ہے تاکہ انہیں موجودہ چیالنجوں سے باہر نکلنے میں مدد مل سکے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ افغان حکومت کا بنیادی طورپر انحصار بیرونی امداد پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکمرانوں کو اپنے اچھے فیصلے کرنے ہوں گے۔ طالبان نے جو وعدے کئے ہیں ان کی تکمیل  کریں اور سیاسی ڈھانچہ میں سب کو شامل رکھا جائے جہاں نسلی گروپس نمائندگی کرتے ہیں اور یہ افغانستان کے استحکام کیلئے اہم ہے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کہنا غیر دانشمندانہ ہوگا کہ اس کے خلاف منفی پروپگنڈہ نازک مرحلہ میں کیا جائے اور اس سلسلہ میں امن کے احکامات کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے جس سے افغان عوام کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ واضح رہے کہ اس اجلاس میں افغانستان نے ایک مشاہد کی حیثیت سے شرکت کی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.