عصمت ریزی کیس میں نامناسب تبصرہ، بنگلہ دیش کی خاتون جج معطل

جج نے یہ ہدایت دی کہ 72 گھنٹے گزرجائیں تو عصمت ریزی کیسس درج نہ کئے جائیں۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ایک جج کو جس نے یہ کہہ کر تنازعہ پیدا کردیا تھا کہ 72 گھنٹے گزرجانے کے بعد عصمت ریزی کیسس درج نہیں کئے جانے چاہئیں، عارضی طورپر معطل کردیا ہے۔

ایم قمرالنّہر 2017 کے رین ٹری ہوٹل (بنانی، ڈھاکہ) عصمت ریزی کیس کی پریسائیڈنگ جج تھیں۔ 28 مارچ 2017 کو 5 ملزمین نے ”برتھ ڈے پارٹی“ کے دوران بندوق کی نوک پر ایک خانگی یونیورسٹی کی 2 طالبات کی عصمت ریزی کی تھی۔

11 نومبر کو دوران ِ سماعت جج قمرالنّہر نے 5 ملزمین بشمول شفاعت احمد کو بری کردیا جو اپن جیویلرس کے پارٹنر کا بیٹا ہے۔

جج نے آبزرویشن میں لکھا کہ تحقیقاتی عہدیدار (آئی او) نے جانبدارانہ چارج شیٹ داخل کی۔ میڈیکل رپورٹ اور ڈی این اے سے عصمت ریزی کی توثیق نہیں ہوئی۔ لڑکیاں‘واقعہ کے 38 دن بعد پولیس سے رجوع ہوئیں۔ آئی او نے پولیس کا وقت ضائع کیا۔

جج نے یہ ہدایت دی کہ 72 گھنٹے گزرجائیں تو عصمت ریزی کیسس درج نہ کئے جائیں۔ سپریم کورٹ کے ترجمان سیف الرحمن کے بموجب چیف جسٹس سید محمود حسین نے سینئر ججس سے صلاح و مشورہ کے بعد خاتون جج کی عارضی معطلی کا فیصلہ کیا۔

ذریعہ
آئی ای این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.