عمران خان اور پاکستانی فوج میں ٹھن گئی!

وزیراعظم پاکستان کی طلب کردہ قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی موجودگی بھی غیرمعمولی ہے۔ ان کے تبادلہ کے احکام جاری ہوگئے لیکن اس کے باوجود جنرل فیض حمید نے ڈائرکٹر جنرل آئی ایس آئی کی حیثیت سے میٹنگ میں شرکت کی۔

نئی دہلی: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے فوج سے کہہ دیا ہے کہ وہ ڈائرکٹر جنرل انٹر سرویسس انٹلیجنس(آئی ایس آئی) فیض حمید کو ہٹانے کے فیصلہ میں اس کے ساتھ نہیں ہیں۔ فرائیڈے ٹائمس نے یہ اطلاع دی۔

سینئر صحافی نجم سیٹھی نے ایک ٹی وی شو میں کہا کہ اس معاملہ میں وزیراعظم کے موقف سے ٹکراؤ پیدا ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلامیہ پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

انٹرسرویسس پبلک ریلیشنس (آئی ایس پی آر) کے اعلان کے بعد پی ایم ہاؤز سے کوئی توثیق نہیں ہوئی اور یہ تاخیر غیرمعمولی ہے۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس فیصلہ نے وزیراعظم اور فوج کے درمیان ٹکراؤ پیدا کردیا ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو پشاور کارپس کمانڈر کی پوسٹنگ دینا اور جنرل ندیم انجم (ندیم احمد انجم) کا بحیثیت ڈائرکٹر جنرل آئی ایس آئی تقرر پی ایم ہاؤز کی طرف سے ہونا چاہئے۔ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔وزیراعظم ہی ڈائرکٹر جنرل آئی ایس آئی کا تقرر کرتا ہے۔

نئے ڈائرکٹر جنرل آئی ایس آئی کے تقرر کے اعلان کے لئے پریس ریلیز کا راولپنڈی سے جاری ہونا اور اسلام آباد سے جاری نہ ہونا بہت کچھ بیان کرتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کی طلب کردہ قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی موجودگی بھی غیرمعمولی ہے۔ ان کے تبادلہ کے احکام جاری ہوگئے لیکن اس کے باوجود جنرل فیض حمید نے ڈائرکٹر جنرل آئی ایس آئی کی حیثیت سے میٹنگ میں شرکت کی۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ سیول اور فوجی قیادت کے درمیان اس نوعیت کا تعطل فریقین کو ایسے مقام پر لے جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیول۔ فوجی تعلقات متاثر ہوں گے۔ فرائیڈے ٹائمس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ قومی سلامتی میٹنگ کا کوئی قابل لحاظ نتیجہ نہیں نکلا۔

آئی ایس پی آر اور پی ایم ہاؤز دونوں خاموش ہیں۔ نجم سیٹھی کے بموجب بعض کابینی وزرا اس کشیدگی کو دور کرنے حرکت میں آچکے ہیں لیکن فی الحال تعطل برقرار ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.