فلسطینیوں کوتنخواہوں کی ادائیگی کیلئے فنڈس دستیاب نہیں : یو این آر ڈبلیو اے

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران لاکھوں افراد کیلئے ضروری خدمات میں امکانی کٹوتی کا انتباہ دیا۔ یو این آر ڈبلیواے‘سارے مشرق وسطیٰ میں فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اسکولس‘کلینک اور غذا کی تقسیم کے پروگرام چلاتی ہے۔

عمان: فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کی ایجنسی (یواین آرڈبلیواے)کے سربراہ نے کہاہے کہ وہ فنڈس کے شدید بحران کی وجہ سے جاریہ ماہ اپنے28ہزارملازمین کوتنخواہ اداکرنے سے قاصر ہے۔

انہوں نے کورونا وائرس کی عالمی وباکے دوران لاکھوں افراد کیلئے ضروری خدمات میں امکانی کٹوتی کا انتباہ دیا۔ یو این آر ڈبلیواے‘سارے مشرق وسطیٰ میں فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اسکولس‘کلینک اور غذا کی تقسیم کے پروگرام چلاتی ہے۔

ان میں بیشترافرادفلسطینیوں کے وہ وارثین ہیں جو1948کی جنگ کے دوران موجودہ اسرائیل سے فرار ہوگئے تھے یا انہیں نکال باہرکیاگیاتھا۔ 5.7ملین پناہ گزین اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارہ‘مشرقی یروشلم‘غزہ‘اردن‘شام اورلبنان میں کیمپوں میں مقیم ہیں جنہیں سہولتوں سے محروم رہائشی علاقوں میں مکانات میں تبدیل کیاگیاہے۔

یواین آرڈبلیواے کے سربراہ فلپ لزارینی نے اردن میں نامہ نگاروں کوبتایاکہ جاریہ سال امریکی امداد بحال ہوئی ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ نے روک دیاتھا‘ تاہم اس کی وجہ سے دیگرعطیہ دہندگان کے فنڈس کم کردیئے گئے ہیں۔ ایجنسی کو2019میں انتظامیہ کے بحران کاسامنا بھی کرنا پڑا تھا جب اس کے سابق سربراہ نے جنسی بدسلوکی‘اقرباپروری اوردیگر الزامات کی وجہ سے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیاتھا۔

ارکان عملہ کوگذشتہ ہفتہ اطلاع دی گئی تھی کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوگی جس پرانہوں نے پیر کے روز ہڑتال کی تھی تاہم بات چیت کے بعد اسے ختم کردیاتھا۔ لزارینی نے کہاکہ اگراس عالمی وباء کے وسط میں یواین آرڈبلیواے کی صحت خدمات پر سمجھوتہ کیاجاتاہے تو کووڈ19کی ٹیکہ اندازی مہم روک دینی پڑے گی۔

زچہ اوربچہ کی صحت کی نگہداشت بند ہوجائے گی‘نصف ملین طلباء وطالبات شاید اپنی تعلیم جاری رکھ نہیں سکیں گے اورزائد ازدوملین غریب ترین فلسطینی پناہ گزینوں کو رقم یا غذائی امدادنہیں ملے گی۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی انسانی ضروریات بڑھتی جارہی ہیں جبکہ ایجنسی کے فنڈس میں 2013کے بعد سے اضافہ نہیں کیاگیاہے۔

لزارینی نے بتایاکہ ایجنسی نے بروسلزمیں منعقدہ اپنی حالیہ کانفرنس میں کافی عطیات اکٹھے کئے تاکہ اپنے23-2022بجٹ کے48فیصد حصہ کی پابجائی کرسکے‘اس نے جاریہ سال کے اختتام تک اپنی خدمات کوجاری رکھنے7ملین ڈالر بھی حاصل کئے ہیں جبکہ 100ملین ڈالرکی کمی تھی۔

انہوں نے کہاکہ میں ہنوزیہ بتانے کے موقف میں نہیں ہوں کہ نومبرکی تنخواہیں کب ادا کی جائیں گی۔یواین آر ڈبلیو اے کے ناقدین بشمول اسرائیل کا الزام ہے کہ ایجنسی73سال قدیم رفیوجی بحران کو جاری رکھے ہوئے ہے اورمیزبان ممالک کو چاہئے کہ وہ پناہ گزینوں کواپنے اندرجذب کرنے کابوجھ سنبھالیں۔

فلسطینیوں کاکہناہے کہ پناہ گزینوں اوران کے وارثین کواپنے گھروں کوواپس ہونے کا حق حاصل ہے جو اب موجودہ اسرائیل میں ہے۔ میزبان ممالک بھی ان کے اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔ اسرائیل نے اس دلیل کومسترد کردیا ہے اورکہاہے کہ اگر اس پر عمل کیاجائے تو یہاں فلسطینیوں کی اکثریت ہوجائے گی۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.