قندھار کی شیعہ مسجد پر خودکش حملہ‘ 37ہلاک

اگست میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے اسلامک اسٹیٹ نے کئی ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری لی ہے۔ طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے دھماکہ کی توثیق کی اور کہاکہ تحقیقات جاری ہیں۔

کابل: جنوبی افغانستان کی ایک شیعہ مسجد پر نمازِ جمعہ کے دوران خودکش بمباروں نے حملہ کردیا۔ کم ازکم 37  افراد ہلاک اور 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ہسپتال کے ایک عہدیدار اور عینی شاہدین نے یہ بات بتائی۔ ایک عینی شاہد مرتضیٰ نے بتایا کہ 4 خودکش بمباروں نے مسجد پر حملہ کیا۔ 2 نے سیکوریٹی گیٹ پر خود کو دھماکہ سے اڑالیا جس کے نتیجہ میں ان کے دیگر 2 ساتھی مسجد کے اندر داخل ہونے اور نمازیوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

 فون پر امریکی نیوز ایجنسی اسوسی ایٹیڈ پریس(اے پی) سے بات چیت مرتضیٰ نے کہا کہ نماز جمعہ میں عام طورپر لگ بھگ 500  افراد موجود ہوتے ہیں۔ ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ خون آلود قالین پر نعشیں بکھری پڑی ہیں۔ ایک مقامی ہسپتال کے عہدیدار نے جو میڈیا سے بات چیت کرنے کا مجاز نہیں‘ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہلاکتوں کی توثیق کی۔ افغانستان میں برسراقتدار طالبان کا مخالف انتہاپسند گروپ‘ شیعوں کو مسلمان ہی نہیں مانتا۔ وہ انہیں واجب القتل سمجھتا ہے۔

 اگست میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے اسلامک اسٹیٹ نے کئی ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری لی ہے۔ طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے دھماکہ کی توثیق کی اور کہاکہ تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ طالبان اور اسلامک اسٹیٹ دونوں اسلامی قانون کی سخت تشریح کے قائل ہیں لیکن اسلامک اسٹیٹ زیادہ کٹر ہے۔ طالبان اور اسلامک اسٹیٹ دونوں سنی ہیں لیکن آئیڈیالوجی کے معاملہ میں ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔

 طالبان نے افغانستان کی شیعہ اقلیت کے تحفظ کا عہد کیا ہے حالانکہ ان کے پچھلے دورِ حکومت میں شیعہ اقلیت عتاب جھیل چکی ہے۔امریکی افواج کے انخلاء کے بعد طالبان نے اگست میں اقتدار سنبھالا۔ اسلامک اسٹیٹ نے چھوٹے حملوں میں طالبان لڑاکوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ قندھارسے یو این آئی کے بموجب جنوبی افغانستان کے شہر قندھار میں نماز جمعہ کے دوران ایک شیعہ مسجد میں خودکش حملہ میں کئی ہلاکتیں ہوئیں۔

 طلوع نیوز نے مقامی عہدیداروں کے حوالہ سے مہلوکین کی تعداد 16  اور زخمیوں کی تعداد 40  بتائی جبکہ اسپوٹنک نے مقامی ہسپتال ذرائع کے حوالہ سے کہا ہے کہ 25 جانیں گئیں۔ غیرمصدقہ اطلاعات میں کہا گیا کہ فاطمہ امام بارگاہ میں کئی دھماکے ہوئے۔ آئی اے این ایس کے بموجب افغانستان کے قندوز کی ایک مسجد میں خودکش بمبار کے حملہ میں 45 سے زائد ہلاکتوں کے ٹھیک ایک ہفتہ کے بعد قندھار کی ایک مسجد میں آج دھماکہ ہوا۔ طلوع نیوز نے یہ اطلاع دی۔

 کسی بھی گروپ نے حملہ کی ؔذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ 8  اکتوبر کے حملہ کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے لی تھی۔ اس نے خودکش بمبار کا نام محمد بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایغور مسلمان تھا۔ خامہ پریس نے یہ اطلاع دی۔ قندوز کی مسجد بھی شیعہ فرقہ کی تھی۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.